Bharat Express DD Free Dish

BJP government

برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے، جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیغام محض ادبی اظہار نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کابینہ توسیع کے دوران ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی پرتیک بھوشن سنگھ کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 207 نشستیں جیت کر تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ گزشتہ 15 برس سے اقتدار میں رہنے والی ترنمول کانگریس کو 80 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ان نتائج کو مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ممتا بنرجی کے طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچا دیا۔

وزیراعظم مودی نے دلیپ گھوش، اگنی مترا پال، اشوک کرتانیا، کشدی رام ٹوڈو اور نشت پرمانک کو بھی مغربی بنگال حکومت میں وزیر کے طور پر حلف لینے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں نے زمینی سطح پر مسلسل محنت کرتے ہوئے عوام کی خدمت کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ سبھی رہنما وزراء کے طور پر مغربی بنگال کی ترقی کے سفر کو مزید مضبوط کریں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سویندو ادھیکاری 9 مئی کو رابندر جینتی کے موقع پر کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کو بی جے پی ایک بڑے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے “اباؤٹ“ سیکشن میں اب بھی انہیں ”فاؤنڈر چیئرپرسن آل انڈیا ترنمول کانگریس“ اور ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں اور پارٹی پوری ذمہ داری کے ساتھ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ”سونار بنگلہ“ کے خواب کو حقیقت میں بدلیں اور ریاست کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہ پر لے جائیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کی نئی قیادت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں سویندو ادھیکاری کے نام پر مہر لگا دی گئی، جس کے بعد وہ مغربی بنگال کے نئے اور بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے جا رہے ہیں۔

بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں تشکیل دی گئی 35 رکنی کابینہ میں صرف 5 خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جو کل وزراء کی تعداد کا محض 14.28 فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں خواتین کو مساوی سیاسی حصہ داری دینے کے دعووں پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔