بریلی: اتر پردیش کے ضلع بریلی کے سرکاری اسپتال سے سامنے آنے والی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو نے پورے ملک میں صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ایک معمر شخص اپنی شدید بیمار بیوی کو ٹھیلے پر لٹاکر اسپتال سے باہر لے جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں بزرگ شخص اسپتال انتظامیہ، ڈاکٹروں اور صحت کے نظام پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کو بے نقاب کیا بلکہ غریب مریضوں کی بے بسی اور مشکلات کو بھی ایک بار پھر عوام کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بزرگ اپنی بیوی کو علاج کے لیے ضلع اسپتال بریلی کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا تھا۔ خاتون کی طبی حالت کافی نازک بتائی جارہی تھی۔ بزرگ شخص کا الزام ہے کہ صبح سے اسپتال میں موجود رہنے کے باوجود ان کی اہلیہ کو نہ مناسب علاج فراہم کیا گیا اور نہ ہی بروقت داخل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے انتظار کے باوجود ڈاکٹروں اور عملے کی جانب سے کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے بعد وہ مایوس ہوکر اپنی بیوی کو واپس گھر لے جانے پر مجبور ہوگئے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب بزرگ اسپتال سے باہر نکلنے لگے تو انہیں کوئی ایمبولینس یا گاڑی دستیاب نہیں ہوئی۔ مجبوراً انہوں نے ایک ٹھیلا منگوایا اور اسی پر اپنی بیمار بیوی کو لٹاکر روانہ ہوگئے۔ اس دوران وہ شدید غصے اور دکھ کے عالم میں کہتے سنائی دیے کہ اگر علاج نہیں ملے گا تو مریض آخر کہاں جائے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اسپتال میں ذلیل ہونے سے بہتر ہے کہ انسان گھر پر ہی مر جائے۔ بزرگ کی یہ درد بھری آواز سن کر وہاں موجود کئی لوگ جذباتی ہوگئے جبکہ بعض افراد نے اس منظر کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کردی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی غصہ پھوٹ پڑا۔ صارفین نے سرکاری اسپتالوں کے انتظامات، مریضوں کے ساتھ رویے اور غریب طبقات کو درپیش مسائل پر سخت سوالات اٹھائے۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ جب سرکاری اسپتالوں میں بھی غریبوں کو سہولت نہیں ملے گی تو وہ آخر کہاں جائیں گے۔ بعض افراد نے اسے صحت کے نظام کی ناکامی قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں نے انتظامیہ سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
बरेली: जिला अस्पताल की बड़ी लापरवाही। बीमार पत्नी को एंबुलेंस नहीं मिली तो बुजुर्ग पति उसे ठेले पर लादकर घर ले जाने को मजबूर हुआ।#Bareilly #UttarPradesh #BreakingNews #UPPolice #BareillyNews pic.twitter.com/hhi5hibfhJ
— Vinay Trivedi🇮🇳 (@JournoVinay) May 10, 2026
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسپتال انتظامیہ حرکت میں آگئی اور پورے معاملے پر وضاحت پیش کی۔ اسپتال کے ایڈیشنل ایس آئی سی ڈاکٹر آر سی دکشت نے کہا کہ خاتون گزشتہ تین دن سے اسپتال میں زیر علاج تھیں اور ان کا علاج مسلسل جاری تھا۔ ان کے مطابق مریضہ کا بلڈ شوگر بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا اور جمعہ کے روز انہیں سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر آر سی دکشت کے مطابق بزرگ کو مریضہ کے ریفر کیے جانے کی مکمل معلومات دی گئی تھیں، تاہم وہ اس فیصلے سے ناراض ہوگئے اور بغیر اسپتال انتظامیہ کو اطلاع دیے خود رکشہ لے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کسی شخص نے ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔ تاہم عوام کا سوال یہ ہے کہ اگر مریضہ کی حالت واقعی نازک تھی تو اسے بغیر کسی طبی نگرانی کے اسپتال سے باہر جانے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری طبی نظام کی زمینی حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ غریب مریضوں کو باعزت اور بروقت طبی سہولت فراہم کرنا حکومت اور اسپتال انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ آئندہ کسی بزرگ کو اپنی بیمار بیوی کو ٹھیلے پر لے جانے کی اذیت نہ سہنی پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

