Bharat Express DD Free Dish

Bihar Election

نتیش کمار کے لیے یہ انتخاب اپنی سیٹ برقرار رکھنے کی لڑائی ہے، جب کہ تیجسوی یادو کے لیے یہ خود کو ایک بڑے متبادل کے طور پر قائم کرنے کا موقع ہے۔ ایگزٹ پولس نے این ڈی اے کو برتری میں دکھایا ہے، لیکن اپوزیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عظیم  اتحاد بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔

رکن پارلیمنٹ شامبھوی چودھری نے راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 18 نومبر کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ شامبھوی نے کہا کہ بہار کی عوام نے اپنا فیصلہ صاف کر دیا ہے۔ وہ اگلے پانچ سال کے لیے نتیش کمار کو ہی وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔

بہار کے تمام 38 اضلاع میں نتائج کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ گنتی کے دن امیدواروں/الیکشن ایجنٹوں اور مرکزی مبصرین کی موجودگی میں ویڈیو گرافی کے ساتھ اسٹرانگ رومز کھولے جائیں گے۔ اس کے بعد گنتی شروع ہوگی۔

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹروں نے جمہوریت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے شام 5 بجے تک 67.14 فیصد کی شاندار پولنگ درج کروائی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق یہ شرح پہلے مرحلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے، جس نے ریاست میں انتخابی جوش کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔

بہار میں منگل کے روز دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ ریاست کے 20 اضلاع کی 122 اسمبلی نشستوں پر صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، ابتدائی دو گھنٹوں میں 14.55 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

اداکار کھیساری لال یادو راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر چھپرا اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہو چکی ہے اور انہوں نے بہار اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت کی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کو اب تک صرف وعدے، جملے، جھوٹ اور فریب ہی ملے ہیں۔ یہ سب اب بہار ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ پچھلے کئی برسوں میں ہم نے بہار کی ترقی کی پالیسی بنانے میں سخت محنت کی ہے۔

پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG)، اے ٹی ایس بہار کی جانب سے جاری کردہ تھریٹ ایڈوائزری میں تمام سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹس اور ریلوے پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ انتخابی ماحول میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مکمل چوکسی اختیار کی جائے۔

جن سوراج اور اے آئی ایم آئی ایم کی انٹری نے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ مرحلہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ میں سیاسی اور سماجی اعتبار سے روایتی طور پر مہاگٹھ بندھن مضبوط مانا جاتا رہا ہے، جبکہ این ڈی اے کے لیے یہاں راستہ کچھ مشکل سمجھا جاتا ہے۔