Bharat Express DD Free Dish

Bihar Election 2025

بہار میں موجودہ حکومت کا مدت کار نومبر تک ہے، اس لیے توقع ہے کہ انتخابات کی شروعات نومبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتی ہے۔ پچھلی بار 2020 میں انتخابات تین مرحلوں میں ہوئے تھے: 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس بار بھی دو سے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اس دورے کے بعد ہی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم ریاست کی موجودہ صورتحال، انتظامی تیاریاں، اور سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لے گی۔ جیسے ہی کمیشن کی طرف سے ہری جھنڈی ملے گی، انتخابی عمل کی حتمی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔

پچھلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 70 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جن میں سے 19 جیتی تھیں۔اس بار کانگریس کو تقریباً 58 نشستیں دیے جانے کا امکان ہے۔تاہم، پارٹی کا زور صرف تعداد پر نہیں بلکہ "مضبوط نشستوں" پر ہے

کیرالہ کانگریس کی جانب سے سوشل میڈیا پر ’’بیڑی‘‘ سے بہار کی توہین آمیز موازنہ پر ردعمل دیتے ہوئے منوج تیواری نے اپوزیشن کے اتحاد کو ’’بہار کا دشمن‘‘ قرار دیا۔

بہاراین ڈی اے میں سیٹ شیئرنگ کا معاملہ طے مانا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی پوری طرح تصویرصاف نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ ضرور طے ہے کہ جے ڈی یو100 سے کم سیٹوں پرالیکشن نہیں لڑے گی۔

دریں اثنا امت شاہ نے جانکی ماتا مندر کی ازسرِ نو تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے پر ریاست کے عوام اور رام بھکتوں کو مبارکباد بھی دی۔

کمیشن نے کہا کہ جن اہل ووٹروں کے نام رہ گئے ہیں انھیں 1 اگست سے 1 ستمبر کے درمیان عمل کے اگلے مرحلے کے دوران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بہار میں اب تک 5 کروڑ 74 لاکھ سے زائد فارم ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔ دو مراحل پر مشتمل گھر گھر سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1.59 فیصد ووٹرز فوت ہو چکے ہیں،

چراغ پاسوان نے چھپرا میں منعقد ’نو سنکلپ مہاسبھا‘ سے خطاب کرتے ہوئے بہار کی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ بہار آتے ہیں اور الیکشن لڑنے کی بات کرتے ہیں تو کئی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے۔ ایسے میں آج میں اعلان کرتا ہوں کہ میں بہار کی تمام 243 سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا۔

واضح رہے کہ بہار کے سیمانچل علاقے میں اقلیتی ووٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ کشن گنج میں 67 فیصد، کٹیہار میں 38 فیصد، ارریہ میں 32 فیصد اور پورنیہ میں 30 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔