Bharat Express DD Free Dish

Bengal politics

امت شاہ نے اپنی تقریر میں ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی کے مسائل اور غیر قانونی دراندازی جیسے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلا مرحلہ 23 اپریل 2026 کو ہوگا، جبکہ دوسرا مرحلہ 29 اپریل کو منعقد کیا جائے گا۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ پہلے مرحلے کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اپریل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے 9 اپریل مقرر کی گئی ہے۔

خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کے لیے بڑے وعدے، ممتا بنرجی کا مرکز اور الیکشن کمیشن پر سخت حملہ۔ یہ انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہوں گے، اور پارٹی نے اپنی پالیسیوں میں سماجی بہبود اور بنیادی سہولیات کو مرکزی حیثیت دی ہے۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں کرائے جائیں گے۔ 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی جبکہ 4 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ایم سی حکومت کا واحد مقصد ترقی کو روکنا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نہ خود کام کرتی ہے اور نہ دوسروں کو کرنے دیتی ہے اور جب تک پارٹی کے افراد کو فنڈز میں سے اپنا ’’حصہ‘‘ نہیں ملتا، تب تک سرکاری اسکیمیں دیہات اور غریبوں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کا ’’جائز مطالبہ‘‘ صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست نے بی جے پی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے بیان کے مطابق ’’ہر انتخابی موسم میں وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ بنگال آتے ہیں اور ہمارے لوگوں، ثقافت اور مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ محض دکھاوا ہے۔ بنگلا مخالف عناصر کو ہماری زبان، ہماری شناخت اور ہمارے وقار کی کوئی پروا نہیں۔‘‘

مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ 3 BLO کی موت کے بعد وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کو’BJP کمیشن‘ قرار دیتے ہوئے سخت حملہ کیا اور کہا کہ جب تک وہ ہیں، کسی شہری کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے نہیں دیں گی۔

مہوا موئترا اور کلیان بینرجی کے درمیان جاری اس لفظی جنگ نے ٹی ایم سی قیادت کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ دونوں ہی پارٹی کے اہم چہروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اس جابرانہ رویے کے خلاف متحد ہوں۔ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ یہ وقت ہے کہ تمام جمہوری قوتیں بی جے پی کی تفرقہ انگیز اور مطلق العنان پالیسیوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہوں۔