ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دو سینئر ارکان پارلیمنٹ کلیان بینرجی اور مہوا موئترا کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں مہوا موئترا نے کلیان بینرجی کو ’سور‘ سے تشبیہ دی، جس پر کلیان بینرجی نے شدید ناراضگی ظاہر کی ہے اور اس تبصرے کو غیر انسانی اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔
کلیان بینرجی کی سوشل میڈیا پر جوابی تنقید
کلیان بینرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے مہوا موئترا پر جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک ساتھی رکن پارلیمنٹ کو ’سور‘ کہنا مہذب سیاسی گفتگو کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی زبان صرف بے ادبی نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا اظہار ہے۔
I have taken note of the recent personal remarks made by Ms. Mahua Moitra in a public podcast. Her choice of words, including the use of dehumanising language such as comparing a fellow MP to a “pig”, is not only unfortunate but reflects a deep disregard for basic norms of civil…
— Kalyan Banerjee (@KBanerjee_AITC) August 4, 2025
مہوا موئترا کا تنقیدی تبصرہ
مہوا موئترا نے کرشن نگر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے ایک انٹرویو میں کہا کہ “آپ سور سے کشتی نہیں لڑتے، کیونکہ سور کو یہ پسند ہے اور آپ گندے ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان میں ایسے مرد موجود ہیں جو جنسی طور پر مایوس، بدعنوان اور بدتمیز ہیں اور ان کی نمائندگی ہر پارٹی میں ہے۔”
کلیان بینرجی کا دوہرے معیار پر اعتراض
کلیان بینرجی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایسی زبان کسی خاتون کے لیے استعمال کی جاتی تو ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل جاتا اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ لیکن جب ایک مرد نشانہ بنتا ہے تو یا تو اسے نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر اس پر طنز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ ایک زہریلے دوہرے معیار کو فروغ دیتا ہے جہاں مردوں کو خاموشی سے سب کچھ برداشت کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
سیاسی اختلاف یا ذاتی حملہ؟
کلیان بینرجی کا کہنا تھا کہ ان کے سوالات عوامی ذمہ داری اور ذاتی رویے سے متعلق تھے، جو کہ ہر عوامی شخصیت کے لیے جائز تنقید کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تنقید کو ’بدتمیزی‘ کہنا حقیقت سے فرار کی کوشش ہے۔
پارٹی کے لیے چیلنج بھرا لمحہ
مہوا موئترا اور کلیان بینرجی کے درمیان جاری اس لفظی جنگ نے ٹی ایم سی قیادت کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ دونوں ہی پارٹی کے اہم چہروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
