Amit Shah holds meeting: وزیرداخلہ امت شاہ کی مغربی بنگال میں مہاجر مزدوروں سے ملاقات، ترنمول کانگریس حکومت پر سخت تنقید
امت شاہ نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت دراندازی جیسے اہم مسئلے پر ناکام رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی ماحول دن بہ دن گرم ہوتا جا رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
Mera Booth Sabse Mazboot: ’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘ مہم میں وزیراعظم نریندر مودی کی ترنمول کانگریس کے خلاف سخت تنقید
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ عوام میں تبدیلی کی خواہش بڑھ رہی ہے اور آنے والے انتخابات میں بڑا سیاسی بدلاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر بوتھ جیت لیا جائے تو سیٹ جیتنا آسان ہو جائے گا۔
Melody in WB Election rallies: ’’ہردے مجے کعبہ، نین مدینہ‘‘ مغربی بنگال انتخاب میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کا گیت موضوع بحث
ترنمول کانگریس کے حامی سیانی گھوش کے اس اقدام کو ثقافتی اظہار اور عوام سے جڑنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ثقافت، موسیقی اور ادب کے ساتھ جڑی رہی ہے۔
Women’s safety in West Bengal: اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں خواتین کی سلامتی پر سیاست گرم، وزیرداخلہ امت شاہ کی ممتا بنرجی پر سخت تنقید
واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
Amit Shah slams TMC: ’’آرجی کر میڈیکل کالج معاملے نے بنگال کو دنیا بھر میں شرمندہ کیا‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کا ترنمول کانگریس پر سخت حملہ
وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے پانی ہاٹی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے جس سے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔
PM Modi slams TMC: ’’ماں رو رہی ہے، ماٹی پر دراندازوں نے قبضہ کرلیا ہے اور مانُش خوفزدہ ہیں‘‘ وزیراعظم مودی کی بنگال حکومت پر سخت تنقید
وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
Sabka Saath, Sabka Vikas: بنگال میں بی جے پی حکومت بنی تو ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے ساتھ لوٹ کرنے والوں کا بھی ہوگا حساب: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔
TMC government failed: وزیراعظم نریندر مودی نے ترنمول کانگریس کو بنایا نشانہ ، کہا-’’مغربی بنگال حکومت ’’سنڈیکیٹ سسٹم‘‘ پر مبنی‘‘
وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔
PM Modi in Haldia: وزیراعظم مودی کا ہلدیہ میں بڑا دعویٰ، کہا-’’انتخابات بنگال کی تقدیر کا فیصلہ کن مرحلہ، پورا مغربی بنگال تبدیلی کی راہ پر گامزن‘‘
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔
PM Modi holds massive roadshow: آسنسول میں وزیراعظم مودی کا روڈ شو، مغربی بنگال انتخابات سے قبل بی جے پی کی طاقت کا مظاہرہ
وزیراعظم مودی نے کہا کہ پورا ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ٹی ایم سی کی پالیسیوں نے مغربی بنگال کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کی ترقی کے لیے موجودہ حکومت سے نجات ضروری ہے۔





