Bharat Express DD Free Dish

Bengal politics

امت شاہ نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت دراندازی جیسے اہم مسئلے پر ناکام رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی ماحول دن بہ دن گرم ہوتا جا رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ عوام میں تبدیلی کی خواہش بڑھ رہی ہے اور آنے والے انتخابات میں بڑا سیاسی بدلاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر بوتھ جیت لیا جائے تو سیٹ جیتنا آسان ہو جائے گا۔ 

ترنمول کانگریس کے حامی سیانی گھوش کے اس اقدام کو ثقافتی اظہار اور عوام سے جڑنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ثقافت، موسیقی اور ادب کے ساتھ جڑی رہی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے پانی ہاٹی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے جس سے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔

وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ پورا ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ٹی ایم سی کی پالیسیوں نے مغربی بنگال کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کی ترقی کے لیے موجودہ حکومت سے نجات ضروری ہے۔