Bharat Express DD Free Dish

Balochistan

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے بلوچستان میں کوہ سبز نامی علاقے میں جیش العدل کے دو ٹھکانوں پر حملہ کر کے تباہ کر دیا ہے۔

پاکستان میں ہزاروں بلوچ ریلی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ دریں اثنا پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انور الحق کاکار نے پیر (یکم جنوری) کو کہا کہ بلوچستان میں بلوچ خاندانوں کے معاملے کو منفی اور حقائق کے بالکل برعکس پیش کیا جارہا ہے۔

یہ مسئلہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔بلکہ انصاف اور احتساب کے ان اصولوں کو بھی کمزور کرتا ہے جس پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

بلوچستان کے عبوری وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بتایا کہ ایک ریسکیو ٹیم مستونگ بھیج دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ لے جایا جا رہا ہے اور تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ہندوستان اور بلوچستان میں مماثلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے قادری نے کہا کہ دونوں کو مذہب کے نام پر کچلا گیا۔ قادری کے ساتھ ڈاسنا مندر کے ہیڈ پجاری یتی نرسمہانند بھی تھے۔

آئی ایس پی نے کہا ہے کہ ژوب میں ہونے والے ہلاکت خیز تصادم میں وہاں سے گزر رہی ایک خاتون کی بھی ہلاکے ہو گئی اور پانچ دیگر شہری زخمی ہوگئے۔

Pakistani Army: رپورٹ کے مطابق، بلوچستان میں تحصیل مشکئی میں 13 اسکول بند کردیئے گئے، جبکہ تحصیل اوارن میں 63 اسکول بھی اسی حالات کا سامنا کررہے ہیں۔

بلوچستان میں باغیوں نے بھی اپنی پرتشدد سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، امام کو "ایک ہائی پروفائل اور کامیاب انٹیلی جنس آپریشن" میں گرفتار کیا گیا۔

پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے وقت کو ایک دہائی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان اسی تنظیم کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر لگام لگانے کے لیے پریشان ہے جسے وہ کبھی پناہ دیتا تھا۔