Bharat Express DD Free Dish

Austrailia

آسٹریلیا کے تجربہ کار فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی نظریں 13 اگست سے بنگلہ دیش کے خلاف شروع ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کپل دیو اور ڈیل اسٹین کے ایک بڑے ریکارڈ پر جمی ہوئی ہیں۔ تاہم اسٹارک کا کہنا ہے کہ انفرادی کامیابیاں ان کے لیے ہمیشہ ٹیم کے مفاد کے بعد آتی ہیں۔

ورلڈ کپ میں پہلا بڑا ‘بھونچال’ آ چکا ہے۔ زمبابوے نے ٹی-20 مقابلے میں موجودہ ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس غیر متوقع ہار کے بعد آسٹریلوی ٹیم اب سپر-8 کی دوڑ میں بری طرح پھنس گئی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس میچ کے بعد آگے کیا کیا تبدیلیاں ممکن ہیں؟

اڈانی انٹرپرائزز کی کچ کاپر اور کاراول منرلز نے بڑے آسٹریلوی تانبا پروجیکٹ کو تیز کرنے کے کرنے کے مقصد سے اسٹریٹجک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ دونوں کمپنیوں نے ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی (ESG) کے شعبے میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی ہے، جو ذمہ دار کان کنی اور پائیدار سپلائی چین کے لیے ان کے مشترکہ عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

فہرست میں سچن تندولکر تیسرے مقام پر ہیں، جنہوں نے 1991 سے 2012 کے درمیان 25 میچوں میں 740 رنز بنائے، جبکہ 21 میچوں میں 684 رنز بنانے والے مہندر سنگھ دھونی اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ آسٹریلیائی بلے باز اسٹیو اسمتھ پانچویں نمبر پر موجود ہیں، جنہوں نے 11 ون ڈے میچوں میں 683 رنز جوڑے۔

اس شراکت داری کے تحت مشترکہ سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا، جس سے دونوں اداروں کے طلباء اور فیکلٹی کو زیادہ سے زیادہ علم کے مواقع فراہم ہوں گے۔

 بالی ووڈ اسٹار کی فلم ’ڈنکی‘ سنیما گھروں میں ریلیز ہوگئی ہے۔ وہیں ریلیز ہوتے ہی یہ فلم بیرون ممالک میں دھوم مچا رہی ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے فلم کو زبردست پیار مل رہا ہے۔

افغانستان کی جانب سے نوین الحق، عظمت اللہ عمرزئی اور راشد خان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ عمرزئی وکٹ لینے والے گیند بازوں میں سب سے مہنگے ثابت ہوئے جنہوں نے 7.40 کی اکانومی کے ساتھ 7 اوورز میں 52 رنز دیے۔

پوسٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کئی انٹرنیٹ صارفین نے حیرت کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "مجھے نہیں معلوم تھا کہ سمندری سانپ اتنے بڑے ہو سکتے ہیں! مجھے امید ہے کہ اس کا انجام خوشگوار ہو گا۔"

ویمنز فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار اس میں 32 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جس میں پہلی بار آئرلینڈ کی ٹیم کھیلتی نظر آئے گی۔ ان ٹیموں کو 4 کے 8 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ہر گروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں راؤنڈ آف 16 میں داخل ہوں گی جہاں سے ناک آؤٹ میچز کھیلے جائیں گے۔

بطور ہدایت کار جوہر کے کھاتے میں 'کبھی خوشی کبھی غم'، 'کبھی الوداع نہ کہنا' اور 'مائی نیم از خان' شامل ہیں، جب کہ بطور پروڈیوسر ان کے کھاتے میں 'کل ہو نا ہو'، 'یہ جوانی ہے دیوانی'، 'کپور اینڈ سنز' اور 'راضی' جیسی فلمیں ہیں۔ وہ سلیبریٹی چیٹ شو 'کافی ود' کرن کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔