Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

وزیرداخلہ امت شاہ نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس دہشت گردی میں بھی ووٹ اور مذہب دیکھتی ہے۔ پہلگام حملے کی شام میں خود کشمیر گیا تھا،میں اس دن کو کبھی نہیں بھول سکتا ۔اس حملے کا جواب دینے کیلئے جو کچھ فوری اقدامات کئے جاسکتے تھے ،ہندوستان نے کیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو لوک سبھا میں بتایا کہ پہلگام واقعہ کو ان تینوں دہشت گردوں نے انجام دیا ہے۔ امت شاہ نے ایوان میں دہشت گردوں کی شناخت سے متعلق حقائق بتائے تھے۔ اس کے علاوہ ایف ایس ایل چنڈی گڑھ میں جائے وقوعہ سے برآمد شدہ کارتوسوں کی میچنگ کے بعد پہلگام حملے میں ان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

انھوں نے کہا کہ پاکستان کانگریس کی غلطی ہے اور اگر کانگریس نے تقسیمِ ہند کو قبول نہ کیا ہوتا تو آج پاکستان وجود میں نہ آتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ کے خطاب کی ویڈیو لنک پر مشتمل ٹویٹ کو شیئر کیا۔

سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم پرتنقید کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کربہت افسوس ہوا کہ کل اس ملک کے سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

امت شاہ نے لوک سبھا میں کانگریس لیڈر چدمبرم کے تبصرے کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ مجھے بہت دکھ ہوا کہ پیر کو اس ملک کے سابق وزیر داخلہ چدمبرم جی نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے؟

امت شاہ نے کہا کہ میں چدمبرم جی کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ تینوں پاکستانی تھے۔ دو کے تو پاکستان کے ووٹر ہونے کی بات موجود ہے۔ ان کے پاس جو چاکلیٹ ملیں، وہ بھی پاکستان میڈ ہے۔

ہندوستانی فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے ایک مشترکہ آپریشن مہادیو میں پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں دی۔

دیویہ دیشمکھ کی یہ فتح نہ صرف ایک عالمی اعزاز ہے بلکہ ایک نئی نسل کے اعتماد اور محنت کی گواہی ہے۔ ان کی کامیابی نے شطرنج کے کھیل کو ایک بار پھر بھارت میں مرکز توجہ بنا دیا ہے، اور قوم بھر میں ان کے اعزاز میں جشن کا ماحول ہے۔