HM Amit Shah On Delimitation Bill: ”49 لاکھ ووٹر اور صرف ایک رکن پارلیمنٹ“— ایک ووٹ ایک قدر کے اصول پر وزیر داخلہ امت شاہ کا اپوزیشن پر سخت حملہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔
Women’s Reservation Bill: لوک سبھا میں ووٹنگ سے پہلے امت شاہ کا بیان — حد بندی پر حمایت دیں، ہم ووٹ کی قیمت برابر کریں گے
امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
Amit Shah On Caste Census: سال 2026 کی مردم شماری ذات کے ساتھ کرانے کا فیصلہ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں خدشات کو کیا دور
لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 کی مردم شماری ذات (کاسٹ) کی بنیاد پر بھی کرائی جائے گی۔
Amit Shah On Womens Quota Delimitation Bill: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن پر ہنگامہ، وزیر داخلہ امت شاہ کا اپوزیشن پر حملہ، کانگریس کو او بی سی مخالف قرار دیا
لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
Parliament Special Session: آئینی ترمیم میں 50 فیصد نشستیں بڑھانے کو تیار ہوں — خواتین ریزرویشن پر امت شاہ کا اپوزیشن پر حملہ
امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔
Amit Shah-Akhilesh Yadav Debate: لوک سبھا میں غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا پر گرما گرم بحث، وزیر داخلہ امت شاہ اور اکھلیش یادو آمنے سامنے، حدبندی پر چھڑ گئی نئی بحث
لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔
HM Amit Shah On Southern States Lok Sabha Seats Delimitation: جنوبی ریاستوں کی سیٹیں اوسط سے زیادہ بڑھیں گی…، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں حلقہ بندی کا پیش کیا مکمل حساب
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔
Amit Shah On Women Reservation Delimitation: خواتین ریزرویشن بل: 2029 تک تمام انتخابات پرانے نظام کے تحت ہوں گے، وزیر داخلہ امت شاہ کی لوک سبھا میں وضاحت
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔
Women’s Reservation Bill 2026: پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کی ریزرویشن پر چھڑگئی جنگ، اکھلیش یادونے کہا، کیا مسلم خواتین آدھی آبادی میں نہیں آتیں؟ امت شاہ نے یہ دیا یہ سخت جواب
حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کے بارے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں کہا، ”ہم آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (ترمیمی) بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہے۔“
Amit Shah counters KC Venugopal: خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیرداخلہ امت شاہ کا کے سی وینوگوپال کو سخت جواب، اہم بلوں پر حکومت و اپوزیشن میں ٹکراؤ
امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔





