Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

وزیر داخلہ امت شاہ نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 73 منشیات اسمگلروں کو سزا دلانے پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تعریف کی۔ جانیں ‘نیدان’ پورٹل اور فارنزک جدیدکاری کے منصوبے کے بارے میں، جن سے مسلسل مدد حاصل ہو رہی ہے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ سول سروسز ڈے کے موقع پر ملک کے تمام سول افسران کو دلی مبارکباد۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور پوری ایمانداری کے ساتھ شہریوں کی خدمت میں سول افسران کا کردار قوم کی تعمیر میں انتہائی اہم ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطہ اور خیرسگالی کے پیغامات نہ صرف اتحاد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ مشترکہ ترقیاتی اہداف کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ یہ روڈ شو ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ریاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اصل مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو اتحاد اور این ڈی اے کے درمیان متوقع ہے، جس میں بی جے پی اور دیگر اتحادی جماعتیں شامل ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بھگوان پرشورام کے جنم اُتسو کے موقع پر وہ ملک کے تمام باشندوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی پرارتھنا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ اس بل میں پارلیمنٹ کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی، جس میں 528 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔