نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک میں غیر قانونی دراندازی اور آبادی کے غیر فطری تغیرات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو کہا کہ حکومت نے ایسے تمام عوامل کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی ہے جو ملک میں آبادی کے تناسب اور سماجی ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ غیر قانونی دراندازی قومی سلامتی، سماجی توازن اور قانون و انتظام کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے، اسی لیے اس مسئلے پر اب جامع اور منظم کارروائی کی جائے گی۔
घुसपैठ और अन्य कारणों से Unnatural Demographic Change किसी भी राष्ट्र के वर्तमान व भविष्य के लिए एक बहुत बड़ी चुनौती है।
इसी चुनौती से निपटने के लिए 15 अगस्त 2025 को प्रधानमंत्री @narendramodi जी ने ‘High-Level Committee on Demographic Change’ की घोषणा की थी। मुझे बताते हुए हर्ष…
— Amit Shah (@AmitShah) May 26, 2026
وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ دراندازی اور دیگر غیر فطری وجوہات سے ہونے والی آبادیاتی تبدیلیاں کسی بھی ملک کے موجودہ اور مستقبل دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف سرحدی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر قومی خودمختاری، روزگار، سماجی ڈھانچے، قبائلی معاشروں کے تحفظ اور داخلی امن و امان پر بھی پڑتا ہے۔ حکومت اب اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ امت شاہ نے بتایا کہ اس کمیٹی کی تشکیل وزیر اعظم نریندر مودی کے اس اعلان کے بعد عمل میں آئی ہے جو انہوں نے 15 اگست 2025 کو یوم آزادی کے موقع پر کیا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ملک میں آبادیاتی تبدیلیوں کے مسئلے پر ایک ہائی پاورڈ ڈیموگرافک مشن قائم کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی دراندازی کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلان کے مطابق ریٹائرڈ جج جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ سابق آئی اے ایس افسر اور مردم شماری کمشنر درگا شنکر مشرا، سابق آئی پی ایس افسر بالاجی شریواستو اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شمیکا روی اس کے ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی ملک بھر میں مذہبی اور سماجی طبقات کی آبادی میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے رجحانات کا تفصیلی مطالعہ کرے گی اور اس مسئلے کے حل کے لیے وقت مقررہ کے اندر سفارشات پیش کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کمیٹی غیر قانونی مہاجرت اور دیگر غیر معمولی عوامل کی وجہ سے ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جامع تجزیہ کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سرحدی علاقوں کو مزید محفوظ بنانے اور دراندازی کے راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ یوم آزادی کے خطاب میں کہا تھا کہ غیر قانونی درانداز نوجوانوں کے روزگار پر اثر ڈال رہے ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے نیا خطرہ بن چکے ہیں۔ حکومت کے مطابق اب اس مسئلے پر سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


