Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

دوسری طرف  مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شنڈے نے پہلے ہی اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ حکمراں مہایوتی اتحاد 'زبردست' اکثریت کے ساتھ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گا۔

ہریانہ میں 5 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں، بی جے پی نے 90 رکنی اسمبلی میں 48 سیٹیں جیت کر ریاست میں تاریخی تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ وہیں کانگریس نے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔ ہریانہ میں مسلسل تیسری بار بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی سینی دوسری بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف  لے لیا ہے۔

ہریانہ میں 5 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں، بی جے پی نے 90 رکنی اسمبلی میں 48 سیٹیں جیت کر ریاست میں تاریخی تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ وہیں کانگریس نے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔ ہریانہ میں مسلسل تیسری بار بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی سینی دوسری بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔

سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر اور انیل وج نے نائب سینی کے نام کی تجویز رکھی اور تمام ایم ایل ایز ان کے نام کو متفقہ طور پر منظور کرتے نظر آئے۔اس کے بعد نائب سنگھ سینی لیجسلیچر پارٹی کے رہنما منتخب ہوگئے۔ اس دوران یہ بھی طے ہوگیا کہ کل یعنی 17 اکتوبر کو نائب سنگھ سینی کی حلف برداری ہوگی۔

وزارت داخلہ نے گروپ کوغیرقانونی اعلان کرتے ہوئے حزب التحریرہندوستان کے جمہوری نظام اورداخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محموداسعد مدنی نے وزیرداخلہ امت شاہ کو لکھے گئے اپنے مکتوب میں یتی نرسنگھانند کے خلاف فوری طورپرسخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اوراسے قومی سالمیت کے لئے خطرہ قراردیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کیا کہ میں تمام ووٹروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جمہوریت کے اس جشن میں شرکت کریں اور اپنے ووٹ کے ذریعے جموں و کشمیر کے مستقبل کی تعمیر کریں۔ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی امید ہے۔

 ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے صدر غلام نبی آزاد نے کہا کہ 10 سال بعد انتخابات ہو رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ آرٹیکل 370 اور دیگر تمام مسائل ہیں۔ پچھلے 10 سالوں کے موجودہ مسائل کو حل کرنا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے۔

دراصل اتوار کو جموں و کشمیر کے جسروٹا میں منعقدہ ایک ریلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی طبیعت خراب ہوگئی تھی، لیکن کچھ دیر توقف کے بعد انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی اور حکمراں جماعت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانا چاہیے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا، "موہن بھاگوت جی  کیا آپ بی جے پی کے ہندوتوا سے اتفاق کرتے ہیں؟ اس بی جے پی میں غنڈے آرہے ہیں، کرپٹ لوگ آرہے ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ امت شاہ مجھے ختم کرنے آرہے ہیں۔ اور شرد پوار کیا آپ ہمیں ختم ہونے دیں گے؟"