Bharat Express DD Free Dish

All India Weather Update

اگرچہ بارش نے گرمی اور امس  سے نجات دلائی ہے، لیکن کنّاٹ پلیس، منٹو روڈ، آئی ٹی او اور متھرا روڈ جیسے علاقوں میں پانی بھرنے کے باعث ٹریفک متاثر ہوا ہے۔ رکشا بندھن کے دن سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے اور ٹریفک اپڈیٹس چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ریاست کے 21 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور لکھنؤ میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ 6 اگست سے بارش میں کمی آئے گی۔ اس کے بعد ریاست میں کہیں بھی شدید بارش کا امکان نہیں ہے، لیکن منگل کے روز کئی اضلاع میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں بھی موسم میں بڑی تبدیلی کی امید ہے۔ ریاست کے 50 اضلاع میں اورنج الرٹ جاری ہوا ہے، محکمہ موسمیات نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی کے قریب یا کھلی جگہوں پر نہ جائیں اور بجلی چمکنے کے وقت محتاط رہیں۔

بارش نے اگرچہ گرمی سے راحت دی، لیکن سڑکوں پر جگہ جگہ پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام نے روزمرہ زندگی کو تھوڑا مشکل ضرور بنا دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج 22 جولائی دہلی-این سی آر  میں ہلکی بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے یہ بھی بتایا کہ پورے ہفتے دہلی-این سی آر  میں ہلکی سے درمیانی بارش کے امکانات ہیں۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات (IMD) نے شمالی ہند کی کئی ریاستوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان میں 15 جون تک ہیٹ ویو کے لیے ریڈ الرٹ ہے۔ وہیں، مدھیہ پردیش اور بہار میں اورنج الرٹ ہے۔

14 جون سے موسم سرد ہونا شروع ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری اور کم سے کم 29 ڈگری تک گر جائے گا۔ یہ کمی 15 جون کو اور بھی تیز ہوگی، جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 اور کم سے کم 28 ڈگری ریکارڈ کیا جائے گا۔ ان دنوں ’گرج چمک کے ساتھ بارش‘ کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے موسم راحت بھرا رہے گا۔

آئی ایم ڈی کے ڈیجیٹل پورٹل کے مطابق دہلی میں 10 اور 11 جون کو شدید گرمی کی لہر کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ 12 اور 13 جون کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کو دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آئی ایم ڈی کے مطابق 25 اور 26 مئی کو دن کے وقت مطلع ابر آلود رہے گا۔ 27 اور 28 مئی کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان موسمی تبدیلیوں کے باعث کئی علاقوں میں ٹریفک اور روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ رہے گا۔ کسانوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کریں کیونکہ ژالہ باری اور تیز بارش فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔