Bharat Express DD Free Dish

Adani Group

محکمۂ انصاف نے مقدمہ ختم کرنے کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی بنیادی نوعیت مکمل طور پر غیر ملکی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ فردِ جرم کے ابتدائی دو صفحات ہی اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں، کیونکہ اس میں بھارتی شہریوں، بھارتی سرکاری اداروں، بھارت میں ہونے والے معاہدوں اور بھارت میں فراہم کی جانے والی بجلی سے متعلق الزامات شامل تھے۔ محکمۂ انصاف کے مطابق بھارت نے 2026 میں ان الزامات کے بیشتر پہلوؤں کی جانچ کر لی تھی اور اپنی رپورٹوں اور فیصلوں میں کسی قابلِ کارروائی بدعنوانی کا سراغ نہیں ملا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمہ فوری طور پر مستقل بنیادوں پر ختم کیا جائے، کیونکہ مزید عدالتی کارروائی سے صرف ان ملزمان کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا جن کے خلاف خود حکومت بھی اب مقدمہ چلانے کو درست نہیں سمجھتی۔

اعلان کے مطابق یہ منصوبہ اوڈیشہ کی تاریخ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی سب سے بڑی تجویز ہوگا، جبکہ دھات سازی کے شعبے میں یہ بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا ایف ڈی آئی منصوبہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 66 ہزار کروڑ روپے اور دوسرے مرحلے میں 44 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

کرن اڈانی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے "وکست بھارت 2047" کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نوعیت کے بڑے صنعتی منصوبے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ اڈیشہ ناگزیر ہے،

پہلے مرحلے میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ممبئی، نوی ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ، جے پور اور گوہاٹی میں ہوٹل، تجارتی مراکز، تفریحی اور کاروباری سہولیات پر مشتمل جدید شہری مراکزبھی  قائم کیے جائیں گے

گوتَم اڈانی نے کہا:"اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو ہر بھارتی کر سکتا ہے۔ انہیں صرف ایک موقع اور ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔"ملک کی تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، 800 سے زائد اضلاع اور دنیا بھر میں موجود بھارتی برادری تک رسائی کے ساتھ وندے بھارتم کو بھارت میں اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کی تلاش کا ایک وسیع ترین پلیٹ فارم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے درخواستیں 24 جون سے شروع ہو چکی ہیں۔

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اڈانی اے جی ایم 2026 کے دوران مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سینٹرز، توانائی، ہوائی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گروپ نے مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں 45 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

گوتم اڈانی نے سالانہ جنرل میٹنگ (AGM 2026) سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران گروپ کی پیش رفت، اہم سنگ میلوں اور نمایاں کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیت اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ملک کے ایوی ایشن سیکٹر میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب حکومت 11 نئے ہوائی اڈوں کی نجی شعبے کے لیے بولی کا عمل شروع کرے گی تو اڈانی گروپ اس میں بھرپور حصہ لے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہ طے نہیں کر رہے کہ 11 میں سے کتنے ہوائی اڈے حاصل کریں گے، ‘‘

یہ منصوبہ گجرات کے ضلع کچھ کے سانگھی پورم میں واقع امبوجا سیمنٹس کے سانگھی پلانٹ میں قائم کیا جائے گا۔ اس شراکت داری کے تحت لیلاک کی جدید کاربن کیپچر اور ہائبرڈ الیکٹرک ہیٹنگ ٹیکنالوجی کا عملی جائزہ لیا جائے گا۔