Bharat Express DD Free Dish

AAP

مختلف ایگزٹ پولس میں کانگریس کی سیٹوں کے حوالے سے حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ تین ایجنسیوں کے ذریعہ جاری کردہ ایگزٹ پول کے نتائج میں کانگریس اپنا کھاتہ کھولتی نظر آرہی ہے۔

عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے الگ الگ الیکشن لڑا ہے۔ دونوں نے تمام 70 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے جے ڈی یو اور ایل جے پی (رام ولاس) کو ایک ایک سیٹ دی۔ دہلی میں بی جے پی، عآپ اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

آج دارالحکومت دہلی  میں اسمبلی انتخابات ہورہےہیں۔ دہلی کی تمام 70 سیٹوں پر ووٹنگ صبح 7 بجے سےجاری  ہے جوکہ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران دہلی کے 1.56 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔

دہلی کے 1.56 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں اور تقریباً 700 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے گھروں سے نکل کر پولنگ بوتھ پہنچ رہے ہیں۔ نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔

قومی دارالحکومت میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13,766 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی 220 کمپنیاں، 35,626 دہلی پولیس اہلکار اور 19,000 ہوم گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

اس انتخاب میں جہاں عام آدمی پارٹی تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی لڑائی میں مصروف ہے وہیں بی جے پی اور کانگریس بھی تخت دہلی پر قبضہ کرنے کی جدوجہد  کررہی  ہیں۔ بی جے پی 25 سال سے زیادہ عرصے سے اقتدار سے باہر ہے۔

قومی دارالحکومت میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13,766 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی 220 کمپنیاں، 35,626 دہلی پولیس اہلکار اور 19,000 ہوم گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابی مہم کا شور پیر کی شام سے تھم گیا ہے اور امیدوار گھر گھر مہم چلا رہے ہیں۔ ووٹنگ بدھ کو ہے لیکن دہلی کی مسلم کمیونٹی، جو ایک ہی سمت میں ووٹ ڈالتی ہے، اس بار مخمصے کا شکار ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی مہم پیر (3 فروری) کو شام 6 بجے ختم ہو گئی۔ ووٹنگ 5 فروری کو ہوگی اور نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔ انتخابی مہم کے آخری روز سیاسی جماعتوں کے بڑے رہنماؤں نے عوام سے رابطہ کیا۔

عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ اس کی ایل ای ڈی گاڑی پر بی جے پی کے لوگوں نے حملہ کیا ہے۔ اب اروند کیجریوال اس کو لے کر امت شاہ پر حملہ کر رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔