Bharat Express DD Free Dish

2020 Northeast Delhi Riots

سپریم کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت بھی دی ہے۔

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے پر چھ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس دوران متعدد سخت شرائط بھی عائد کیں تاکہ قانونی عمل متاثر نہ ہو۔ حکم کے مطابق خالد سیفی عبوری ضمانت کے دوران دہلی-این سی آر سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے اور انہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کامیاب پیروی پر وکلاء کی ستائش کی۔ اہل خانہ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا۔

شکایت کنندہ کے مطابق شام 4.30 بجے کے قریب 50-60 لوگوں کا ایک ہجوم دوبارہ آیا اور دھمکی دی کہ وہ فوراً گھر سے نکل جائیں ورنہ انہیں زندہ جلا دیا جائے گا۔ ہجوم نے تقریباً 20 تولہ سونا اور تقریباً 250 گرام چاندی کے زیورات اور 1.5 لاکھ روپے کی نقدی لوٹ لی۔

پولیس نے درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضمنی چارج شیٹ داخل کرنے کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر ضروری ہو تو یہ کیس کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی تعداد میں چارج شیٹ دائر کر سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ضمانت کی دیگر شرائط میں یہ شامل ہے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے، متعلقہ حکام کو اپنا پتہ اور فون نمبر نہیں دیں گے اور گواہوں کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

جج نے کہا کہ سرفراز کی پیشی کا انتظار کرنے کے باوجود ویڈیو مسلسل کام نہیں کر رہی اور ملزم کا کہنا تھا کہ اس کی طرف کا نیٹ ورک ٹھیک نہیں ہے۔