Bharat Express DD Free Dish

2002 Gujarat riots

سپریم کورٹ نے گجرات فساد سے متعلق ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے 6 ملزمین کو بری کردیا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی معاملے میں صرف موقع پرموجود ہونا یا وہاں سے گرفتار ہونا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ وہ غیرقانونی ہجوم کا حصہ تھے۔

ذکیہ جعفری کی عمر 86 برس تھی۔ انہوں نے گجرات کے احمد آباد میں آخری سانس لی۔ وہ کانگریس لیڈر احسان جعفری کی اہلیہ تھیں۔ احسان جعفری 2002 کے گجرات فسادات کے دوران گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں 68 دیگر افراد کے ساتھ مارے گئے تھے۔

بلقیس بانو معاملے میں گجرات حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے 11 قصورواروں کی رہائی منسوخ کرنے کے معاملے میں حکومت کی نظرثانی کی درخواست خارج کردی ہے۔ عدالت نے 8 جنوری کو قصورواروں کی رہائی کو منسوخ کردیا تھا۔

بھارت میں کشیدگی اور انتخابات کا رشتہ برسوں پرانا ہے۔ صرف گزشتہ 30 سالوں میں انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ تشدد کے 7 بڑے واقعات رونما ہوئے، جنہوں نے ملک کی حالت اور رخ بدل دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اجتماعی آبروریزی متاثرہ بلقیس بانو جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ سال میں پہلی بارمسکرائی ہوں۔ بلقیس بانو کو انصاف دلانے کے لئے کئی خواتین نے مدد کی۔ اس میں 4 بے حد اہم رہیں۔ آئیے ان کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔

ممبئی کی خصوصی سی بی آئی کورٹ نے 21 جنوری 2008 کو11 افراد کوعمرقید کی سزا دی۔ سال 2017 میں بامبے ہائی کورٹ اوربعد میں سپریم کورٹ نے بھی سزا کوبرقراررکھا۔

بلقیس بانو نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ نے یقین دلایا ہے کہ وہ دو ججوں کی خصوصی بنچ میں سماعت کی تاریخ طے کریں گے۔

مہتا نے کہا، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کا کردار صرف پتھراؤ کا تھا۔ لیکن جب آپ کسی ڈبے کو باہر سے لاک کرتے ہیں، اسے آگ لگا دیتے ہیں اور پھر پتھر مارتے ہیں، تو یہ صرف پتھراؤ نہیں ہوتا۔

حکومت ہند نے گجرات فسادات پر بی بی سی کی دستاویزی فلم کو وزیر اعظم مودی اور ملک کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ دستاویزی فلم کے پیچھے کیا ایجنڈا ہے، لیکن یہ منصفانہ نہیں ہے۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف پروپیگنڈا ہے

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے گجرات حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ مجرم پتھر پھینک رہا تھا اس لیے اس نے لوگوں کو برننگ کوچ سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام حالات میں پتھر پھینکنا کم سنگین جرم ہو سکتا ہے لیکن اس معاملے میں یہ مختلف تھا۔