نئی دہلی: سن رائزرس حیدرآباد نے آئی پی ایل 2026 کے دوران اپنی ٹیم میں بڑا رد و بدل کرتے ہوئے نوجوان آل راؤنڈر آر ایس امبریش کو شامل کر لیا ہے۔ 18 سالہ امبریش کو زخمی کھلاڑی شیوم ماوی کے متبادل کے طور پر ٹیم میں جگہ دی گئی ہے، جو انجری کے باعث پورے سیزن سے باہر ہو گئے ہیں۔آر ایس امبریش کی پیدائش 28 مئی 2007 کو چنئی میں ہوئی۔ وہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور دائیں ہاتھ سے میڈیم پیس باؤلنگ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایک مکمل آل راؤنڈر مانا جاتا ہے۔ حال ہی میں وہ انڈر 19ورلڈکپ2026 میں شاندار کارکردگی کے بعد خبروں میں آئے، جہاں وہ بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند بازوں میں شامل رہے۔
امبریش نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی سوئنگ باؤلنگ سے خاصی توجہ حاصل کی اور انہیں مستقبل کا ابھرتا ہوا اسٹار قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہینیل پٹیل نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی، دونوں نے مل کر ٹیم کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔سن رائزرس حیدرآباد کی ٹیم میں پہلے ہی پرفل ہنگے اور ثاقب حسین جیسے نوجوان کھلاڑی متاثر کن کارکردگی پیش کر چکے ہیں، اور اب امبریش کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔آر ایس امبریش کے والد آر ایس امبریش خود بھی کرکٹر رہ چکے ہیں اور تمل ناڈو کی انڈر-19 ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ اس وقت وہ چنئی میں کوچنگ دیتے ہیں اور اپنے بیٹے کی تربیت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
امبریش تامل ناڈو پریمیرلیگ میں لائکا کوائی کنگز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں اپنا رانجی ڈیبیو بھی کیا تھا۔ اپنے مختصر فرسٹ کلاس کیریئر میں وہ اب تک دو میچ کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے 43 رنز بنائے اور 2 وکٹیں حاصل کیں۔سن رائزرس حیدرآباد میں شمولیت کے بعد آر ایس امبریش کو 75 لاکھ روپے معاوضہ ملے گا، جو ان کی بیس پرائس تھی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ نوجوان آل راؤنڈر آئی پی ایل کے بڑے اسٹیج پر کس طرح اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



