وراٹ کوہلی کی سالگرہ
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وراٹ کوہلی آج (بدھ) اپنا 37واں جنم دن منا رہے ہیں۔ کرکٹ کی دنیا میں انہیں ”کنگ کوہلی“، ”رن مشین“ اور ”چیز ماسٹر“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وراٹ کوہلی تینوں فارمیٹس ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر صرف ایک عظیم بلے باز ہی نہیں، وہ ایک غیر معمولی کپتان بھی رہے، جنہوں نے بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کے چہرے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
کپتانی کی شروعات اور تبدیلی کا دور
وراٹ کوہلی نے 9 دسمبر 2014 کو بھارتی ٹیسٹ ٹیم کی کمان سنبھالی۔ اُس وقت ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی آسٹریلیا کے دورے کے دوران اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے، جس کے بعد قیادت کی ذمہ داری کوہلی کے کندھوں پر آئی۔ جنوری 2022 میں جب انہوں نے ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا، تب تک تقریباً آٹھ سال میں وہ بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کو ایک نئے عہد میں لے جا چکے تھے۔ وراٹ کی قیادت میں بھارت کا ٹیسٹ کرکٹ کے تئیں نظریہ، حکمت عملی اور جذبہ یکسر بدل گیا۔ ان کے کپتانی کے دور کو بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔
فٹنس کلچر اور ”یو یو ٹیسٹ“ کا انقلاب
وراٹ کوہلی نے ٹیم میں فٹنس کو اولین ترجیح دی۔ ان کا ماننا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں جوش و توانائی برقرار رکھنے کے لیے فٹنس لازمی ہے۔ انہوں نے ٹیم میں “یو یو ٹیسٹ” کو لازمی قرار دیا، جس کے تحت ہر کھلاڑی کو ایک خاص فٹنس معیار پر پورا اترنا لازمی تھا۔ اس فیصلے نے ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کو دنیا کی سب سے فٹ ٹیموں میں شامل کر دیا۔ فٹنس کے اس انقلاب کا اثر فیلڈنگ، رننگ بیٹوین دی وکٹ اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں نظر آیا۔
تیز گیند بازوں پر بھروسہ، بیرون ملک کامیابی
روایتی طور پر بھارتی ٹیسٹ کرکٹ میں اسپنرز کو اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر وراٹ کوہلی نے اس رجحان کو بدل دیا۔ انہوں نے تیز گیند بازوں کو ترجیح دی اور اسپن کی جگہ پیس اٹیک کو مضبوط کیا۔ اس فیصلے نے بیرون ملک بھارت کی کارکردگی میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی کپتانی میں بھارت نے آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں تاریخی فتوحات حاصل کیں۔ 2018-19 میں بھارت نے پہلی بار آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر بارڈر-گاوسکر سیریز میں شکست دی — جو بھارتی کرکٹ کی تاریخ کا سنگ میل مانا جاتا ہے۔
جیت کی سوچ اور جارحانہ قیادت
وراٹ کوہلی کا ماننا تھا کہ ٹیسٹ میچ ڈرا نہیں بلکہ جیت کے لیے کھیلا جانا چاہیے۔ اسی سوچ نے ٹیم میں جارحانہ جذبہ بھرا۔ چاہے گھریلو میدان ہو یا غیر ملکی پچ، وراٹ ہمیشہ فتح کے ہدف کے ساتھ اترے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے 2016 سے 2021 کے درمیان ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون ٹیم کا مقام حاصل کیا۔ بھارت نے پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی کھیلا۔
اعداد و شمار اور کامیابیاں
وراٹ کوہلی نے 68 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی، جن میں سے بھارت نے 40 میچ جیتے، 17 ہارے اور صرف 11 ڈرا ہوئے۔ یہ جیت کا تناسب انہیں عالمی سطح پر رکی پونٹنگ کے بعد دوسرا کامیاب ترین کپتان بناتا ہے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے گھریلو میدان پر کھیلی گئی تمام 11 ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی، جبکہ بیرون ملک بھی ناقابل فراموش جیتیں درج کیں۔ وراٹ کوہلی نے اپنی قیادت سے یہ ثابت کیا کہ اگر جذبہ، نظم و ضبط اور فٹنس کو ترجیح دی جائے تو کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ ایک عزم بن جاتی ہے۔ ان کی سوچ اور قیادت نے بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کو ایک نئی شناخت دی — جارحانہ، مضبوط اور عالمی معیار کی ٹیم کے طور پر۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


