Bharat Express DD Free Dish

اسپورٹس

میچ منسوخ ہونے کے بعد دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا گیا ہے۔ پاکستان اب 24 فروری کو انگلینڈ کے خلاف میدان میں اترے گا، جبکہ 28 فروری کو اس کا مقابلہ سری لنکا سے ہوگا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم 25 فروری کو سری لنکا اور 27 فروری کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی۔

شکھر دھون نے اگست 2024 میں انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہہ دیا تھا۔ ’گبّر‘ نے بھارت کے لیے کل 34 ٹیسٹ، 167 ون ڈے اور 68 ٹی20 میچ کھیلے۔ تینوں فارمیٹس کو ملا کر دھون کے بلے سے 10,867 رنز بنے۔ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے دوران دھون نے کل 24 سنچریاں اسکور کیں۔

مندھانا نے 55 گیندوں پر 3 چھکے اور 8 چوکے کی مدد سے 82 رنز بنائے جبکہ جیمما رودریگیز نے 46 گیندوں پر 4 چوکوں کے ساتھ 59 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔ رچا گھوش نے ٹیم کے سکور میں 18 رنز کا اضافہ کیا۔

بابر کے علاوہ فخر زمان بھی نیوزی لینڈ کے خلاف اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 17 میچوں میں 439 رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 134 سے زائد رہا ہے، تاہم موجودہ ورلڈ کپ میں انہیں پلیئنگ الیون میں مستقل موقع نہیں مل سکا۔

سوریہ کمار یادو کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے گروپ اسٹیج میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن آف اسپن گیند بازوں کے سامنے بلے بازوں کی جدوجہد اب ایک واضح رجحان بنتی جا رہی ہے۔ کیا سپر-8 کی مشکل پچوں پر بھارت اس چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

ان کی مسلسل ناکامی پرانگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ تکنیکی کمزوری سے زیادہ ذہنی دباؤ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بلے باز کے لیے لگاتار تین بار صفر پر آؤٹ ہونا اعتماد کو شدید متاثر کر سکتا ہے

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے دوران جب شیوم دوبے کریز پر آئے تو بھارتی ٹیم 69 رنز پر تین اہم وکٹیں گنوا چکی تھی۔ ایسے دباؤ والے وقت میں انہوں نے صرف 31 گیندوں پر 66 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو 193 رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 178 رنز بنائے۔ اوپنرز کسل پریرا اور پتھم نسانکا نے ٹیم کو تیز آغاز فراہم کیا اور ابتدائی پانچ اوورز میں 54 رنز جوڑے۔

دوسری جانب زمبابوے نے بھی اس ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ کپتان سکندر رضا کی قیادت میں ٹیم نے اپنے ابتدائی دو میچ جیتے۔ زمبابوے نے عمان کو 8 وکٹوں سے جب کہ آسٹریلیا کو 23 رنز سے شکست دی۔

بھارت کی جانب سے ورون چکرورتی نے 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ شیوَم دوبے نے 3 اوورز میں 35 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جسپریت بمراہ اور ہاردک پانڈیا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ اس فتح کے ساتھ بھارت نے گروپ مرحلے کا اختتام مضبوط انداز میں کرتے ہوئے ٹائٹل کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی۔