Bharat Express DD Free Dish

اسپورٹس

کے ایل راہل نے لیڈس ٹسٹ کی دوسری اننگ میں شاندار سنچری لگائی۔ راہل کے بلے سے 202 گیندوں میں سنچری نکلی۔ ٹسٹ کیریئرمیں راہل نے 9ویں بارسنچری لگائی۔ وہیں لیڈس کے میدان پریہ ان کی پہلی ٹسٹ سنچری ہے۔

ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری بنانے والے پہلے ایشیائی وکٹ کیپر بلے باز بن گئے پنت۔ پہلی اننگز میں بھی بنائی تھی شاندارسنچری، ٹیسٹ کرکٹ کا ایک بڑا ریکارڈ کیا اپنے نام۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال رنجی ٹرافی میں ناقص فٹنس کی بنیاد پر پرتھوی شا کو سینئر سلیکشن کمیٹی نے ٹیم سے ڈراپ کر دیا تھا۔

جسپریت بمراہ نے 24.4 اوور میں 83 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ وہ غیر ملکی سرزمین پر ایک اننگز میں سب سے زیادہ مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کے معاملے میں کپِل دیو کے برابر پہنچ گئے ہیں۔

اب سے کوئی بھی آئی پی ایل ٹیم ٹرافی جیتنے کے بعد جشن منانے کے لیے چاہے وہ عوامی ایونٹ ہو یا روڈ پریڈ بی سی سی آئی سے باضابطہ اجازت حاصل کیے بغیر تقریب کا انعقاد نہیں کر سکے گی۔

بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 471 رنز بنائے۔ گل کے 147 رنز کے علاوہ رشبھ پنت نے 134 اور یشسوی جیسوال نے 101 رنز بنائے۔ اگر بھارت کے سائی سدرشن، کرون نائر، روندرا جڈیجہ اور شاردل ٹھاکر اچھی بلے بازی کرتے تو بھارت کا اسکور 550 کے آس پاس ہو سکتا تھا۔

نیرج نے ڈائمنڈ لیگ کے مقابلے میں 88.16 میٹر کی شاندار تھرو کر کے نہ صرف سیزن کی پہلی فتح حاصل کی۔ سال کے آغاز میں نیرج نے مئی میں دوحہ ڈائمنڈ لیگ میں شاندار 90.23 میٹر کی تھرو کے ساتھ قومی ریکارڈ توڑا تھا۔

جیسوال نے 157 گیندوں پر 101 رنز بنائے۔ اس دوران شاٹ کا بہترین انتخاب اور ذہنی نظم و ضبط دیکھنے میں آیا۔ جیسوال نے آف سائیڈ پر انگلینڈ کے گیند بازوں کے خلاف شاندار رنز بنائے۔ اس اننگز کے دوران جیسوال نے نئے کپتان شبمن گل کے ساتھ 129 رنز کی شراکت بھی کی۔ گل نے پہلے دن کے اختتام تک 125 رنز بنائے ہیں۔ فی الحال ان کے ساتھ رشبھ پنت 65 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں۔

نیرج چوپڑا نے پیرس ڈائمنڈ لیگ میں 88.16 میٹر کی تھرو کر کے سیزن کی پہلی جیت حاصل کی۔ یہ ان کی ڈائمنڈ لیگ کی پانچویں جیت ہے، جہاں انہوں نے ویبر اور دا سلوا کو پیچھے چھوڑا

منجریکر نے بھلے ہی کسی کھلاڑی کا نام نہیں لیا  ہولیکن کرکٹ شائقین سمجھ گئے کہ ان کا نشانہ وراٹ کوہلی کی پرانی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے وہ آف اسٹمپ کے باہر گیندیں کھیلتے ہوئے کئی بار آؤٹ ہوتے رہے ہیں۔