کولکاتا: بھارتی کرکٹ ٹیم کے تیز گیندباز محمد شامی کو چیک باؤنس معاملے میں بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ علی پور عدالت نے ان کی علیحدہ رہنے والی اہلیہ حسین جہاں کی جانب سے دائر چیک باؤنس کیس میں شامی کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد شامی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی یقین تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا کیونکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ یہ معاملہ کئی برس پرانا ہے۔ حسین جہاں نے الزام عائد کیا تھا کہ محمد شامی نے گھریلو اخراجات کے لیے انہیں ایک لاکھ روپے کا چیک دیا تھا، جو بینک میں جمع کرانے پر باؤنس ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے شامی کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ بدھ کے روز علی پور کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے شامی کو تمام الزامات سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔
شامی کے وکیل سلیم رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹر محمد شامی کو چار سال پرانے اس مقدمے میں مکمل راحت مل گئی ہے، جو ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق عدالت نے تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالتی فیصلے کے بعد محمد شامی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شروع سے ہی پُراعتماد تھے کیونکہ انہوں نے اپنی تمام مالی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”مجھے جتنی بھی رقم ادا کرنی تھی، میں نے ایک ایک روپیہ ادا کیا ہے۔ چاہے میدان کے اندر کی بات ہو یا باہر کی، میں ہمیشہ ہر صورتحال کو اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں“۔
واضح رہے کہ 2018 میں حسین جہاں نے نہ صرف چیک باؤنس کا الزام لگایا تھا بلکہ شامی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف کئی اور شکایات بھی درج کرائی تھیں۔ اس وقت یہ معاملہ کافی سرخیوں میں رہا تھا اور بھارتی کرکٹ حلقوں میں بھی اس پر کافی بحث ہوئی تھی۔ شامی اور حسین جہاں کے درمیان ازدواجی تنازعہ گزشتہ کئی برسوں سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اس دوران محمد شامی مسلسل اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وہ اس وقت لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈین پریمیئر لیگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم ذاتی زندگی سے متعلق قانونی تنازعات کی وجہ سے وہ وقتاً فوقتاً خبروں میں بھی رہتے ہیں۔
دوسری جانب شامی اور حسین جہاں کے درمیان نان نفقہ اور گزارہ بھتہ سے متعلق قانونی جنگ اب بھی جاری ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق محمد شامی فی الحال حسین جہاں کو ہر ماہ ڈیڑھ لاکھ روپے جبکہ اپنی بیٹی کی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے ڈھائی لاکھ روپے ادا کرتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر چار لاکھ روپے ماہانہ ادا کیے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں حسین جہاں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ رقم گھریلو اخراجات کے لیے ناکافی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں محمد شامی اور مغربی بنگال حکومت دونوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ماں اور بیٹی کے گزارے کے لیے ماہانہ چار لاکھ روپے واقعی ناکافی رقم ہے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیک باؤنس کیس میں بریت کے باوجود شامی اورحسین جہاں کے درمیان دیگر مقدمات کی سماعت ابھی جاری رہے گی، جس کے باعث یہ معاملہ آئندہ بھی توجہ کا مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


