ونیش پھوگاٹ کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت
نئی دہلی میں بھارتی کشتی کے میدان میں ایک بار پھر بڑا قانونی اور انتظامی موڑ دیکھنے کو ملا، جب دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے ملک کی اسٹار خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کو بڑی راحت دیتے ہوئے 30 اور 31 مئی کو ہونے والے 2026 ایشیائی کھیلوں کے انتخابی ٹرائلز میں شرکت کی اجازت دے دی۔
زچگی کی چھٹی پر عدالت کا فیصلہ
عدالت نے واضح کہا کہ زچگی کی چھٹی کی وجہ سے کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے عدالت نے پورے ٹرائلز کی ویڈیو ریکارڈنگ اور کھیل اداروں کی جانب سے آزاد مبصرین مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بنچ نے بھارتی ریسلنگ فیڈریشن (WFI) کی موجودہ سلیکشن پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’امتیازی‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا۔ ہفتہ کو جاری کیے گئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ WFI کی جانب سے بنائے گئے قوانین بظاہر ونیش پھوگاٹ جیسی ممتاز کھلاڑی کو مقابلے سے باہر رکھنے کے مقصد سے تیار کیے گئے تھے۔
فیڈریشن کے نئے ضابطے کیا تھے؟
فیڈریشن کے نئے ضابطوں کے مطابق صرف وہی پہلوان ٹرائلز کے لیے اہل قرار دیے گئے تھے جنہوں نے 2025 اور 2026 کے حالیہ گھریلو مقابلوں میں تمغے جیتے ہوں، جبکہ ماضی کی شاندار کارکردگی کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس بات پر گہرائی سے غور کیا کہ ونیش پھوگاٹ کی زچگی کی چھٹی (Maternity Leave) اور اس کے بعد بحالی کا دورانیہ عین اسی وقت آیا جب یہ گھریلو مقابلے منعقد کیے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ ان میں حصہ نہیں لے سکیں۔
بنچ کا تاریخی تبصرہ
بنچ نے تاریخی تبصرہ کرتے ہوئے کہا،’’یہ قانون کا ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ زچگی کی وجہ سے کسی بھی خاتون کو اس کی ملازمت، کیریئر، رینکنگ یا ترقی کے معاملے میں کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ ڈبلیو ایف آئی کی یہ پالیسی مکمل طور پر اخراج پر مبنی ہے، کیونکہ یہ فیڈریشن کو ونیش جیسی ’آئیکونک‘ کھلاڑیوں کے حق میں اپنے اختیارات استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں دیتی۔‘‘عدالت نے یاد دلایا کہ ونیش پھوگاٹ ایک بین الاقوامی سطح پر معروف کھلاڑی ہیں، جنہوں نے ملک کے لیے کئی اہم تمغے جیتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ماضی کی پالیسیوں میں فیڈریشن کے پاس ممتاز کھلاڑیوں کو براہِ راست ٹرائلز میں شامل کرنے کا اختیار موجود تھا، لیکن اس بار جان بوجھ کر قواعد میں ایسی تبدیلی کی گئی جو سابقہ روایات سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



