Bharat Express DD Free Dish

Parveen Shakir Poetry: چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا……خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

پروین شاکر کی شاعری ہجر اور ملن کی کشاکش سے عبارت ہے جس میں ہجر اور وصل دونوں ادھورے ہیں۔ جذبے کی لے، پیشکش کا انداز اور لفظوں کی بُنت کے ساتھ پروین شاکر نے اردو کی نسائی شاعری میں اک ایسا مقام حاصل کیا جس کے ذکر کے بغیر اس تحریک کو نامکمل سمجھا جائے گا۔

اردو ادب میں نسائی جذبات کی نازک ترجمانی کرنے والی معروف شاعرہ پروین شاکر کا شمار ان چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ عطا کیا۔ ان کی شاعری میں جذبات کی شدت، اظہار کی سادگی، اور نسوانی احساسات کا فنکارانہ امتزاج پایا جاتا ہے۔ پروین شاکر نے شاعری میں روایتی جبر، عورت کی خاموشی اور احساسات کی پردہ داری کو توڑتے ہوئے ایک بیباک، دلیر اور سچائی سے بھرپور انداز اپنایا۔

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا

پروین شاکر

ادبی سفر کی ابتدا اور تعلیم

پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب بھی شاعر تھے۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب اور لسانیات میں ایم اے کیا۔ تدریس کے بعد وہ سول سروس میں شامل ہوئیں اور سنٹرل بورڈ آف ریونیو و دیگر اداروں میں خدمات انجام دیں۔

ادبی کارنامے

محض 25 سال کی عمر میں پہلا مجموعہ خوشبو منظر عام پر آیا جس نے انہیں فوراً شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس کے بعد ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں صد برگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں ہجر و وصال کا نازک امتزاج، اور جذبات کی نفیس تشریح پائی جاتی ہے۔

ذاتی زندگی اور جدوجہد

پروین شاکر کی شادی ان کے خالہ زاد ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جو پیشے سے ڈاکٹر تھے لیکن یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا اور طلاق پراس کا اختتام ہوا۔

ایوارڈز اور اعزازات

پروین شاکر کو آدم جی ایوارڈ، پرائڈ آف پرفارمنس، فیض احمد فیض ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ خوشبو کی یہ شاعرہ 26  دسمبر 1994 کو ایک کار حادثے میں انتقال کرگئیں۔

پروین شاعر کی ایک خوبصورت غزل دیکھیں:

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا

کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے

وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ

سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی

تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read