اتوار کے تباہ کن ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد جس میں سات لوگوں کی موت ہوئی اور اتراکھنڈ میں ہیلی کاپٹر کے اور بھی حالیہ واقعات کے بعد ریاستی حکومت نے پیر تک چار دھام کے لیے تمام ہیلی خدمات کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں تصدیق کی کہ اونچائی والے علاقوں میں ہیلی آپریٹرز اور پائلٹوں کے اڑان کے تجربے کا جامع جائزہ لینے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈر کی میٹنگ کے بعد ہی خدمات دوبارہ شروع ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ کے بعد ان اقدامات کا اعلان کیا۔ ہیلی پروازوں کے بہتر تال میل اور محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے دہرادون میں ایک مشترکہ ’’کمانڈ اینڈ کوآرڈینیشن سنٹر‘‘ قائم کیا جائے گا۔ اس سینٹر میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA)، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سول ایوی ایشن، UKADA، اور ہیلی آپریٹر کمپنیوں کے اہلکار شامل ہوں گے۔
معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار بنانے کے لیے کمیٹی کی تشکیل
وزیر اعلیٰ نے اتراکھنڈ کے داخلہ سکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی بھی ہدایت دی ہے، جو عوامی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP) کا مسودہ تیار کرے گی۔ اس کمیٹی میں DGCA، UKADA، سول ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کے نمائندے شامل ہوں گے۔ توقع ہے کہ کمیٹی ستمبر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا ’’ہم ریاست میں ہیلی خدمات حاصل کرنے والے زائرین اور سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت انتظامی اور تکنیکی SOPs بنائے جائیں گے۔‘‘ نئے اقدامات سے خطے میں کام کرنے والی ہیلی سروسز میں انتہائی ضروری شفافیت اور جوابدہی لانے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




