Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اس انوکھے گاؤں کا نام ’لونگوا‘ ہے جس کا ایک حصہ میانمار میں ہے تو دوسرا حصہ ہندوستان میں۔ یہ گاؤں ناگالینڈ کی راجدھانی کوہیما میں 390 کلومیٹر دور شمال مشرق کی طرف مون ضلع میں بسا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ نے چائلڈ ٹریفکنگ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے اسپتال سے بچہ چوری پر لائسنس منسوخی کا حکم دیا، اور ملزمان کی ضمانت بھی منسوخ کر دی۔ ریاستی حکومتوں کو سخت ہدایات دی گئیں

وزیراعظم مودی کے وقف جائیداد اورمسلمانوں پردیئے گئے بیانوں کے بعد کانگریس نے سخت پلٹ وارکیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ دگوجے سنگھ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے زیراقتدارریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ دشمنوں کی طرح برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ یہ تنازعہ اب سیاسی بحث کا مرکزبن گیا ہے، جس میں اقلیتوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

دہلی حکومت کے ذرائع کے مطابق اگلے ایک مہینہ میں اس کے سینٹر تیار ہو جائیں گے۔ یہاں ابتدائی علاج کی سبھی سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ یہ آروگیہ مندر ’آیوشمان بھارت یوجنا‘ کے تحت کھولے جا رہے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکرکی 135ویں یوم پیدائش کے موقع پرایف ٹی کے-آئی ٹی آڈیٹوریم میں ایک تقریب کا انعقاد کیا اوران کی وراثت وافکارکوشاندارخراجِ عقیدت پیش کیا۔

بہاراسمبلی الیکشن سے متعلق آرجے ڈی لیڈرتیجسوی یادواورکانگریس لیڈرراہل گاندھی اورکانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں عظیم اتحاد کے وزیراعلیٰ امیدوارسے متعلق ہوئے تبادلہ خیال کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تیجسوی یادونے میٹنگ کے بعد کہا کہ ہم لوگ آپس میں بیٹھ کرطے کرلیں گے۔

فضل المبین  نے اپنے تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے  کہا کہ کیا اب حکومت کے خلاف بولنا جرم بن گیا ہے؟ یہ واقعہ بہار میں جمہوریت کی حالت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ہم امارت شرعیہ اور دیگر مسلم تنظیموں کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہیں۔

اس واقعے نے راجستھان کے چتور گڑھ ضلع کے ساتھ ریاست کی سرحد کے قریب نیمچ ضلع کے سنگولی قصبے کے رہائشیوں کے احتجاج کو جنم دیا ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی امر پور تھانہ انچارج اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دیں۔ مرنے والے کی شناخت ان کے کپڑوں اور دیگر سامان کی بنیاد پر ہوئی جس کی تصدیق مقامی لوگوں نے بھی کی۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔