Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعاون، زراعت اور تجارت کی وزارتیں کسانوں اور ایف پی اوز کو تربیت، مارکیٹنگ، پیکیجنگ اور برآمدی سہولیات کے ذریعے نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔

جسٹس بی آرگوئی عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ بعد تک چیف جسٹس رہیں گے اور نومبر 2025 میں ریٹائرہوں گے۔ وہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے دوسرے چیف جسٹس ہوں گے۔

دیہی افراط زر فروری میں 3.79 فیصد سے کم ہو کر مارچ میں 3.25 فیصد ہو گیا، جب کہ شہری افراط زر فروری میں 3.32 فیصد سے مارچ میں معمولی طور پر بڑھ کر 3.43 فیصد ہو گیا۔

قومی آبی گزرگاہوں پر کارگو ٹریفک مالی سال 2014 اور مالی سال 2025 کے درمیان 18.10 MMT سے بڑھ کر 145.5 MMT ہو گئی ہے، جس میں 20.86 فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ نمو (CAGR) درج کی گئی ہے۔

راہل گاندھی نے ضلعی سطح کی سیاست کواہمیت دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا ضلع صدرکوئی سمجھوتہ کرنے والا امیدوارنہیں ہوگا۔ وہ آپ لوگوں کی مدد سے ضلع چلائے گا۔ ضلع اس کے فیصلوں کے مطابق چلے گا۔ امیدوارکواوپرسے ہدایات نہیں ملیں گی۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ تنظیم اورالیکشن لڑنے والوں کے درمیان رابطہ ہو۔

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں وقف قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کے بعد ریاست کی صورتحال کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس آمنے سامنے ہیں اوردونوں ایک دوسرے پرالزام تراشی کررہی ہیں۔

سعودی عرب کی طرف سے حج پرجانے والے ہندوستانی عازمین حج کے لئے طے شدہ تقریباً 52 ہزار حج سلاٹ کو منسوخ کئے جانے کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن کے کئی لیڈران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں سعودی عرب کے سامنے اس موضوع کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے میٹنگ میں بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند نے وقف کے تحفظ کے لیے آزادی سے قبل اوربعد میں تاریخی کردارادا کیا ہے۔ 1937 میں شریعت ایپلی کیشن ایکٹ اوربعد ازاں وقف ایکٹ 1954 اور1995 میں جمعیۃ کی سفارشات کو شامل کیا گیا، لیکن موجودہ حکومت کسی بھی دینی اورقانونی ادارے کی رائے کو خاطرمیں نہیں لائی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقف قانون میں مرکزی حکومت کے ذریعہ من مانی، متنازعہ، دستوری حقوق سے متصادم ، امتیازوتفریق اورفرقہ واریت پرمبنی ترمیمات نے فی الواقع مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا ہے، جس کا اظہار ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج و مظاہروں کی شکل میں ہو رہا ہے۔