Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے 2028 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ سدارامیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ورونا اسمبلی حلقے کے لوگ مسلسل ان سے دوبارہ انتخاب لڑنے کی اپیل کر رہے ہیں.

بھارت ایکسپریس سے بات چیت کے دوران محمد ادیب کا درد بھی چھلک گیا کہ آل انڈیا انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے میٹنگ میں شرکت کے لئے حامی بھری تھی، لیکن وہ کیوں نہیں آئے، اس کی مجھے جانکاری نہیں ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران محمد ادیب نے کہا کہ یہ پہلی بارہوا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی اہم شخصیات ایک پلیٹ فارم پربیٹھی کیونکہ اب پانی سر کے اوپر چلا گیا۔ یہ سلسلہ جلسہ نہیں تھا بلکہ غوروفکر کے لیے تقریب تھی۔ آج سرکاری اداروں پرقبضہ ہو رہا ہے، اس کو برباد کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق، بہاربند کا اثرریاست کے مختلف علاقوں میں ملا جلا رہا۔ پٹنہ میں پتھراؤ کے واقعات پیش آئے، جبکہ نالندہ، نوادہ، جہان آباد اورروہتاس اضلاع میں بند کا اثرنسبتاً کم رہا۔ دوسری جانب تیج پرتاپ یادو نے ہفتہ کے روزکاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے سے بہارآنے اورسمراٹ چودھری کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

آئی ایم سی آرکے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی کوششوں سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پرتبادلہ خیال کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں محمد ادیب کے علاوہ جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی، سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید، تلگانہ کے وزیراعلی کے مشیرمحمد علی شبیر، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان، مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد، درگاہ اجمیرکے گدی نشین سرورچشتی، سابق مرکزی وزیرعلی اشرف فاطمی، اے پی سی آر کے کنوینرندیم خان، آئی ایم سی آر کے جنرل سکریٹری محمد اعظم بیگ وغیرہ نے شرکت کی۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدے سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان پیڑھی اور طالب علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپر لیک کے خلاف سدھار کے لئے پابندعہد ہے۔

جنترمنترپرطلبا اورنوجوانوں کے ملک گیراحتجاج کے درمیان آج  مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی، اپوزیشن، مختلف آرگنائزیشن کے ملک گیراحتجاج کے بعد یہ استعفیٰ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کو اپنا استعفیٰ بھیجا، جس کے بعد احتجاج کررہے طلبا خوشی سے جھوم اٹھے۔ دھرمیندرپردھان نے سوشل …

دہلی میں اپنی تحریک کے اختتام کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اپنے اگلے مرحلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اشارہ دیا ہے کہ دہلی کے بعد ان کی مہم یہیں ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلا احتجاج کہاں ہوگا اور کن مسائل پر کیا جائے گا، اس کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:"ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

 ملک کے وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان نے پہلے عہدے سے استعفیٰ دیا، اب اسے وزیراعظم مودی نے قبول کرلیا ہے۔ پیپرلیک معاملے میں طلبا کے مطالبہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔