Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

ہنڈائی موٹر انڈیا کے ایم ڈی انسو کم نے کہا کہ نئی اصلاحات ان کے انجن والی 60 فیصد گاڑیوں پر براہ راست اثر ڈالیں گی، جن پر اب صرف 18 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

48,000 کروڑ روپے کے ریونیو کی کمی کو بجٹ میں جذب کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دیگر محصولات کافی بہتر رہے ہیں، اور ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی طرف سے سرپلس کی منتقلی توقع سے زیادہ رہی ہے۔ اگر کوئی اور مالی لغزش نہ ہوئی تو مالی خسارہ 4.4 فیصد پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

"یہ ایک انتہائی ترقی پسند قدم ہے، جو ایک نہایت اہم وقت پر طلب اور اعتماد دونوں کو بڑھانے میں مدد دے گا! جب دنیا ہمیں کونے میں دھکیلتی ہے، ہم خود کو سختی سے لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔"

کئی اشیاء جن پر پہلے 12 فیصد یا 18 فیصد ٹیکس لگتا تھا — جیسے مکھن، گھی، چیز، کنڈینسڈ ملک، نمکین، پاستا، بیکڈ فوڈز، چاکلیٹس، خشک میوے اور نٹس، اور ذاتی صفائی کی اشیاء جیسے شیمپو اور ٹوتھ پیسٹ — اب صرف 5 فیصد ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گی، جس سے وہ زیادہ قابل برداشت ہوں گی۔

وزارت نے کہا: "یہ نمایاں ٹیکس اصلاحات ڈیری سیکٹر کو فروغ دیں گی اور کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچائیں گی، جو ملک میں مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں معاون ہوں گی۔

جیلانی خان کا انتقال صحافت کے لئے بالخصوص اردو صحافت کے لئے بڑا خسارہ ہے۔ جیلانی خان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پرلوگ تعزیت پیش کررہے ہیں اورکم عمری میں دنیا سے رخصت ہونے پرافسوس اظہارکررہے ہیں۔

جی ایس ٹی کونسل نے زرعی مشینری پر ٹیکس میں کمی کر کے کسانوں پر بوجھ کم کر دیا ہے، کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں ان مشینوں کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی مزدوروں کی شناخت اور ان کی صحیح تعداد کی تصدیق ہو سکے گی۔ ایمبولینس اور طبی ٹیمیں جائے وقوعہ پر تعینات ہیں تاکہ زخمیوں کو فوری علاج مل سکے۔ انتظامیہ نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ملک کی آبادی کا تقریباً 31 فیصد مڈل کلاس پر مشتمل ہے، جو نہ صرف معیشت کی اہم قوت ہے بلکہ انتخابی لحاظ سے بھی ایک فیصلہ کن طبقہ ہے۔ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ کے بعد، جی ایس ٹی 2.0 کے ذریعے حکومت نے اس طبقے کو مزید فائدہ پہنچایا ہے۔

مرکزی وزیردھرمیندرپردھان نے جمعرات کوملک کی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کی۔ اس بار این آئی آرایف نے 16 مختلف زمروں میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اوراداروں کی درجہ بندی کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد، جو ملک کے ممتاز اقلیتی تعلیمی اداروں میں سے ہیں، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔