Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اناؤ ریپ کیس کے مجرم کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرنے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر نئے سرے سے سماعت کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر فیصلہ سنائے۔

پٹرول، ڈیژل اورسی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایکس پرپوسٹ کرکے طنز کیا ہے اور بڑا سوال اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مودی حکومت غلطی پرہے اورعوام کواس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

ملک میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مہنگائی نے چوطرفہ حملہ کر دیا ہے۔ سونا-چاندی، دودھ، پٹرول-ڈیزل اور سی این جی سبھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ جانیے کس طرح بڑھتی قیمتوں نے عوام کی جیب پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے؟

پٹرول اور ڈیزل  کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب سی این جی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ دہلی میں سی این جی کی قیمت 79.09 روپے فی کلو جبکہ ممبئی میں 84 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ کرایوں اور ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافے کے باعث اس کا براہِ راست اثر عام عوام پر پڑے گا۔

پہلے سے مہنگائی کی مار جھیل رہی عوام پر مزید بوجھ ڈالتے ہوئے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 97.81 روپے اور ڈیزل 90.71 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ جانیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پوری خبر۔

وزیر اعظم مودی کی جانب سے ایندھن کی بچت اور قومی مفاد کے لیے وسائل کے بہتر استعمال کی اپیل کو آئی ٹی سیکٹر نے عملی شکل دینا شروع کر دیا ہے۔ گجرات کے صنعتی اور تکنیکی مراکز خصوصاً سورت میں کئی آئی ٹی کمپنیوں اور نوجوان ملازمین نے ورک فرام ہوم اور کار پولنگ جیسے طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔

جسٹس سوریہ کانت شرما نے کہا کہ انہوں نے اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے اور اب اس معاملے کی سماعت کوئی اور بینچ کرے گی۔ جسٹس شرما صرف توہین عدالت کیس کی سماعت کریں گی۔

عدالت نے کہا کہ جب عدلیہ جیسے ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے تو یہ جج کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ بدنام کئے جانے کی کوششیں اس کے فیصلے پر اثرانداز نہ ہوں۔ جب اس عدالت نے جج کے معاملے سے الگ ہونے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کی تھی، تب عدالت کی سمجھ یہ تھی کہ اس کے سامنے واحد مسئلہ عدالتی حکم کی درستگی اورتعصب کا اندیشہ تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ 2022 کی پابندی نے ہزاروں طالبات اوران کے خاندانوں کوشدید ذہنی، تعلیمی اورسماجی نقصان پہنچایا۔ متعدد طالبات کوکلاس رومزمیں داخلے سے روکا گیا خاندانوں کو ہجوم کے نفرتی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا اورطالبات کواپنے ایمان اورتعلیم کے درمیان انتخاب پرجبراً مجبورکیا گیا۔