Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

یہ تقریب اڈانی فاؤنڈیشن اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو دیہی صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے، جو نہ صرف آنکھوں کے علاج کو عام لوگوں تک پہنچائے گا بلکہ تربیت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے نوجوان کو اغوا کیا، پھر ایک کرائے کے مکان میں لے جا کر اس پر شدید تشدد کیا۔ اس دوران اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ حالانکہ، شام تک رقم نہ ملنے پر ملزمان نے اسے اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی اتر پردیش پولیس کی کندھراپور تھانہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فوری طور پر راحت و بچاؤ کام شروع کر دیا۔ پولیس نے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی بحال کرائی۔

 یوپی پولیس نے لکھنؤ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرپرم جیت سنگھ کوپوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ ان پرالزام ہے کہ ایک طالبہ کو قابل اعتراض معلومات فراہم کرنے اور امتحان کا پرچہ لیک کرنے کے لئے کہا تھا۔ حالانکہ پروفیسرنے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈر اعظم خان کو رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے 2 سال کی سزا سنائی ہے۔ 2019 لوک سبھا الیکشن سے متعلق معاملے میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ فی الحال اعظم خان اپنے بیٹے عبداللہ اعظم خان کے ساتھ رام پورجیل میں بند ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔

پریانکا چترویدی نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عدلیہ کی تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں۔پریانکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود ایک ایسے معاملے پر فیصلہ نہیں آیا ،

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دو پین کارڈ معاملے میں 7 سال کی قید کاٹ رہے اعظم خان کو رام پور کی ایک عدالت نے ایک اور معاملے میں قصور وار قرار دیا ہے۔ لوک سبھا الیکشن 2019 کے دوران سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کا ایک بیان کافی تنازعہ میں آگیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سکم کے عوام نے جس گرمجوشی اور محبت کا اظہار کیا، وہ ان کی زندگی کی خاص یادوں میں شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ مرکزی حکومت مستقبل میں بھی سکم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سکم کی سیاحت، قدرتی مناظر، برف پوش پہاڑ اور سرسبز جنگلات اسے ملک کی خوبصورت ترین ریاستوں میں شامل کرتے ہیں۔ انہوں نے ریاست کے عوام کی محنت اور ترقی پسند سوچ کی بھی تعریف کی۔سکم 16 مئی 1975 سے پہلے ایک آزاد بادشاہت تھا،