Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

جلسۂ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد اشفاق سلفی مدنی اور پنجاب وقف بورڈ کے چیئرمین محمد اویس نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے صدرمولانا محمد رحمانی نے جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالبر سنابلی مدنی نے انجام دیے۔ 

ذرائع کے مطابق بزرگ اپنی بیوی کو علاج کے لیے ضلع اسپتال بریلی کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا تھا۔ خاتون کی طبی حالت کافی نازک بتائی جارہی تھی۔ بزرگ شخص کا الزام ہے کہ صبح سے اسپتال میں موجود رہنے کے باوجود ان کی اہلیہ کو نہ مناسب علاج فراہم کیا گیا اور نہ ہی بروقت داخل کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے، جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیغام محض ادبی اظہار نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کابینہ توسیع کے دوران ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی پرتیک بھوشن سنگھ کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔

واقعے میں کسی بڑے نقصان یا سنگین زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک کسی فریق کی جانب سے باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ راجستھان پولیس، درگاہ کمیٹی اور مقامی انتظامیہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔

مغربی بنگال میں 80 نشستوں تک محدود ہونے کے بعد ٹی ایم سی نے نئی قیادت کا اعلان کر دیا ہے۔ شوبھندیب چٹوپادھیائے کو حزبِ اختلاف کا لیڈر، فرہاد حکیم کو چیف وہپ جبکہ نینا اور اسیمہ کو ڈپٹی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ پڑھیے ممتا بنرجی کے ان 4 بھروسہ مند لیڈروں کی مکمل پروفائل۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی اپنی انتخابی شکست کے لیے ’پوری دنیا‘ کو قصوروار ٹھہراتی ہے اور اس کی وجہ اس کی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے تمل ناڈو میں اپنے دیرینہ اتحادی ڈی ایم کے کو بھی دھوکہ دیا ہے۔