Bharat Express DD Free Dish

Farmers from the border areas of Punjab: پنجاب کے سرحدی علاقوں کے کسانوں سے 48 گھنٹوں کے اندر کٹائی مکمل کرنے کے لیے کہا گیا، بارڈر ایریا کسان یونین کے نائب صدر نے کیا خدشات کا اظہار

تاہم مقامی انتظامیہ اور بی ایس ایف نے ایسی کوئی تحریری ہدایت جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ بی ایس ایف کے ذرائع نے بتایا کہ اس قسم کی ہدایت کسانوں کو حفاظتی اقدامات میں اضافے کے تحت زبانی طور پر دی گئی ہے۔

فائل فوٹو۔

پنجاب کے ان کسانوں کے پاس جن کی زمینیں ہندوستان کی طرف سرحدی باڑ اور ہندوستان-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر زیرو لائن کے درمیان ہیں، انھیں ہفتہ کے روز بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر 48 گھنٹوں کے اندر فصل کی کٹائی مکمل کرنے اور اپنے کھیتوں کو صاف کرنے کو کہا ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق یہ پیش رفت پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے، جس میں 26 سیاح مارے گئے ہیں۔

انتظامیہ نے تحریری طور پر کوئی ہدایت جاری نہیں کی، لیکن۔۔۔

تاہم مقامی انتظامیہ اور بی ایس ایف نے ایسی کوئی تحریری ہدایت جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ بی ایس ایف کے ذرائع نے بتایا کہ اس قسم کی ہدایت کسانوں کو حفاظتی اقدامات میں اضافے کے تحت زبانی طور پر دی گئی ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’’ہم اپنے کسانوں کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔‘‘

امرتسر، ترنتارن، فیروز پور، اور فاضلکا اضلاع کے گاؤں کے گرودواروں نے مبینہ طور پر کسانوں کو تنبیہ کی کہ وہ اپنی گندم کی فصل کاٹ کر 48 گھنٹوں کے اندر اندر ذخیرہ کرلیں۔ اخبار کے مطابق اعلانات میں یہ بھی کیا گیا تھا کہ ان علاقوں تک رسائی کے دروازے جلد ہی بند کر دیے جائیں گے اور اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو ممکنہ طور پر ان زمینوں تک رسائی غیر معینہ مدت کے لیے منقطع کر دی جائے گی۔

یہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہے جب کچھ علاقوں میں گندم کی کٹائی پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے اور زیادہ تر کسانوں نے ابتدائی کٹائی مکمل کر لی ہے۔ ابھی تک مویشیوں کے چارے کے لیے گندم کے بھوسے کو پروسیس کرنا باقی ہے۔ پنجاب سیکٹر میں 530 کلومیٹر کی بین الاقوامی سرحد میں ہندوستانی جانب سرحدی باڑ اور ہندوستان پاکستان بین الاقوامی سرحد پر زیرو لائن کے درمیان کسانوں کی تقریباً 45,000 ایکڑ اراضی ہے۔

کسانوں نے کہا-دو دنوں میں سارا کام ختم کرنا نہایت مشکل

دی نیو انڈین ایکسپریس نے پنجاب بارڈر ایریا کسان یونین کے نائب صدر سرجیت سنگھ بھورا کے حوالے سے بتایا کہ ’’بی ایس ایف افسران نے تحریری طور پر کوئی ہدایت نہیں دی ہے، لیکن کسانوں سے کہا ہے کہ وہ پیر کی شام تک جلد از جلد کھیتوں کو خالی کر دیں۔‘‘ اطلاعات کے مطابق مقامی افسران (کمپنی کمانڈروں) نے مختلف مقامات پر متعلقہ کسانوں کی میٹنگ بلائی اور انھیں گندم کی کٹائی کے لیے دو دن کی ڈیڈ لائن کے بارے میں بتایا اور گیٹ بند کرنے کے بارے میں خبردار کیا۔

کسانوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انھیں جلد از جلد کام ختم کرنے کے لیے سرحد کے ساتھ والے کھیتوں میں مزید مشینیں لے جانے کی اجازت ہے۔ سرجیت سنگھ بھورا نے کہا ’’80 سے 90 فیصد گندم کی کٹائی ختم ہو چکی ہے، لیکن بھوسے کی کٹائی اور جمع کرنا ایک مشکل کام ہے، جسے مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘ ترنتارن ضلع کے سربجیت سنگھ کلس نے کہا ’’دو دنوں میں گندم کی کٹائی ناممکن ہے۔ دروازے بند کرنے کی تلوار ہمارے اوپر لٹک رہی ہے اور اگر کشیدگی بڑھی تو آنے والے دنوں میں دھان بونے کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔‘‘ وہیں فیروز پور ضلع کے نصیب سنگھ نے کہا ’’ایک کسان کے لیے مویشیوں کا چارہ ضروری ہے اور اسے سال بھر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب تک حالات پرامن ہیں تب تک کسانوں کو اپنے کھیتوں میں جاکر کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔‘‘

بی ایس ایف کی طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا: ڈپٹی کمشنر

دریں اثنا امرتسر کے ڈپٹی کمشنر ساکشی ساہنی نے کہا کہ بی ایس ایف کی جانب سے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ افواہ ہے کہ بی ایس ایف نے سرحدی دیہاتوں میں دو دن کے اندر خاردار تاروں سے پرے گندم کی کٹائی کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ایسی بے بنیاد افواہوں کو نظر انداز کریں اور سرکاری چینلز کے ذریعے معلومات کی تصدیق کریں۔ کسانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پٹواریوں، تحصیلداروں، یا ضلعی انتظامیہ کے افسران سے بات کر کے ایسی کسی بھی خبر کی وضاحت کریں۔‘‘ وہیں بی ایس ایف کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ’’ہو سکتا ہے کہ پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد کے پیغام کے حوالے سے کسانوں کو کچھ لوگوں نے غلط سمجھایا ہو۔ کسانوں کو صرف گرمی کی شدید لہر سے پہلے اپنا کام مکمل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read