جھارکھنڈ کے آئی پی ایس انوراگ گپتا (ڈی جی پی انوراگ گپتا) نے ڈی جی پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے منگل کی دیر شام استعفیٰ پیش کیا۔ ان کے استعفے کو حکومت نے قبول کیا ہے یا نہیں، یہ واضح نہیں ہو سکا ہے، اور یہ بھی طے نہیں ہو پایا ہے کہ ان کی جگہ نیا پولیس سربراہ کون ہوگا۔ آئی پی ایس پرشانت سنگھ اور ایم ایس بھاٹیہ کے نام زیرِ غور بتائے جا رہے ہیں۔
دیر شام کی سرگرمیوں نے قیاس آرائیوں کو تقویت دی
انوراگ گپتا کے استعفے کی خبریں منگل کی شام اس وقت گردش میں آئیں جب دفتر بند ہونے کے بعد شام تقریباً ساڑھے سات بجے ڈی جی پی آفس میں دوبارہ سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ ڈی جی پی انوراگ گپتا بھی دفتر پہنچے۔ اس کے بعد وہ کانکے روڈ پر واقع وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ گئے اور کچھ دیر رکنے کے بعد واپس اپنے گھر لوٹ آئے۔ ان دونوں واقعات کے بعد ان کے استعفے کی بحث زور پکڑ گئی۔ تاہم کسی بھی سطح پر اس خبر کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔ بھارت ایکسپریس نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور انوراگ گپتا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں ہو سکی۔
مرکز اور ریاست کے درمیان تقرری کو لے کر کشمکش
ڈی جی پی انوراگ گپتا کی ریٹائرمنٹ 30 اپریل 2025 کو طے تھی، لیکن اس سے قبل ہی ریاستی حکومت نے جنوری میں ایک نیا قاعدہ بنا کر انہیں سروس ایکسٹینشن دے دیا۔ اس طرح وہ 30 اپریل کے بعد بھی عہدے پر برقرار رہے۔ مرکزی حکومت نے آل انڈیا سروس رولز کا حوالہ دیتے ہوئے اس توسیع کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور وزارتِ داخلہ نے خط و کتابت بھی کی تھی۔ تاہم ریاستی حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔
تقرری اور عہدے کی تاریخ
پنجاب سے تعلق رکھنے والے 1990 بیچ کے آئی پی ایس افسر انوراگ گپتا کو پہلی بار 26 جولائی 2024 کو ریاست کا قائم مقام ڈی جی پی بنایا گیا تھا۔ مگر جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نے 19 اکتوبر 2024 کو انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ انتخابات کے بعد 28 نومبر 2024 کو وہ دوبارہ ڈی جی پی مقرر کیے گئے۔ بعد میں ریاستی حکومت نے ڈی جی پی تقرری کے لیے نئی ضابطہ بندی جاری کی، جس کے تحت انہیں مستقل ڈی جی پی مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ ڈی ایس پی رینک کے افسروں کی ترقی سے متعلق معاملات میں بھی انوراگ گپتا کے کردار پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ یونین پبلک سروس کمیشن نے ڈی جی پی کے سروس ایکسٹینشن کی غیر واضح صورتحال کے باعث کچھ ترقیاتی فیصلے مؤخر کر دیے تھے۔
متنازعہ رہا انوراگ گپتا کا کیریئر
انوراگ گپتا کا مدت کار تنازعات سے بھرا رہا ہے۔ 2016 میں ان پر راجیہ سبھا انتخابات کے دوران بڑکاگاؤں کی اُس وقت کی ایم ایل اے نرملا دیوی کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے اور لالچ دینے کا الزام لگا تھا۔ اس معاملے میں بابولال مرانڈی نے ایک آڈیو ٹیپ بھی جاری کیا تھا، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے حکم پر رانچی کے جگرناتھ پور تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ہیمنت سورین حکومت نے انوراگ گپتا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 2020 میں انہیں معطل کر دیا۔ تاہم 2022 میں معطلی ختم ہونے کے بعد وہ بحال کر دیے گئے اور داخلہ محکمہ میں تعینات کیے گئے۔ 2024 میں جب وزیراعلیٰ ہیمنت سورین جیل سے باہر آئے تو انہوں نے اس وقت کے ڈی جی پی اجے کمار سنگھ کو ہٹا کر انوراگ گپتا کو اضافی چارج دیا۔ اس وقت وہ سی آئی ڈی اور اے سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تعینات تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

