Bharat Express DD Free Dish

Cold Wave :اگلے 48 گھنٹوں میں دہلی میں پارہ 4 ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے

آئی ایم ڈی نے قومی راجدھانی میں گھنے دھند اور پیر کی صبح سرد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ٹھنڈ میں اضافہ ہونے کی صورت میں لوگ آگ جلا کر کسی حدتک ٹھنڈ کوکرنے کی کوشش کررہےہیں۔

راجدھانی دہلی

محکہ موسمیات کے مطابق راجدھانی دہلی میں پیر کو بھی سردی کی لہر برقرار رہے گی اور اگلے روز منگل کو بھی یہی صورتحال یعنی سرد لہر رہے گی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کی وجہ ٹھنڈ میں مزید اضافہ کررہی ہے۔دہلی میں اتوار کو سردی نے دہلی والوں کو کپکپنا پر مجبور کردیا ۔ قومی راجدھانی کے بیشتر مقامات کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش سے شدید سردی کی اطلاع ملی ہے۔ اگلے 48 گھنٹوں میں دہلی میں پارہ 4 ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔ اتوار کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت تین ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آئی ایم ڈی نے قومی راجدھانی میں گھنے دھند اور پیر کی صبح سرد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ٹھنڈ میں اضافہ ہونے کی صورت میں لوگ آگ جلا کر کسی حدتک ٹھنڈ کوکرنے کی کوشش کررہےہیں۔

دہلی این سی آر میں سردی بڑھنے کے ساتھ ساتھ کہرے کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہندوستا ن کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت میں کمی  ہونے کی وجہ سے ٹھنڈ میں اضافہ ہورہا ہے۔ٹھنڈ کی وجہ گھنے کہرے کا اثر اب ٹرینوں،بسو ں اور پروازں پر بھی دیکھائی دے رہے ہے۔

  ٹھنڈ اور کہرے سے لوگوں کو سانس لینے میں پریشانی ہورہی ہے۔ وہیں دوسری طرف کہرے کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ہورہا ہے۔ٹریفک کی رفتار دھیمی ہوگئی ہے۔ صبح کے وقت کوہرا کافی گھنا ہونے کی وجہ سے ٹریفک میں کافی دقت ہو رہی ہے۔ملک میں سردی کی لہر دیکھی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی لہر کا اثر دہلی، ہماچل، پنجاب، ہریانہ، اتراکھنڈ اور شمالی راجستھان میں اگلے پانچ دنوں تک دیکھا جا سکتا ہے

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read