غزہ تنازع میں ایک ممکنہ بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے کچھ اہم نکات کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کا ردِعمل
حماس کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پراس پر فوری ردعمل سامنے آیا۔ بھارتی پی ایم نریندر مودی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، جب کہ تمام فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہو۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حماس “پائیدار امن کے لیے سنجیدہ” ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے فوری بمباری روکنے کی اپیل کی تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کیا جا سکے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ کچھ نکات پر ابتدائی بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے، اور یہ صرف غزہ کے امن سے متعلق نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کی جانب قدم ہے۔
پی ایم مودی کا بیان
We welcome President Trump’s leadership as peace efforts in Gaza make decisive progress. Indications of the release of hostages mark a significant step forward.
India will continue to strongly support all efforts towards a durable and just peace.@realDonaldTrump @POTUS
— Narendra Modi (@narendramodi) October 4, 2025
بھارتی پی ایم نریندر مودی نے “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا:”ہم امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ غزہ میں امن کے لیے فیصلہ کن پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یرغمالیوں کی ممکنہ رہائی کو ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ بھارت ہر اُس کوشش کی حمایت جاری رکھے گا جو دیرپا اور منصفانہ امن کے لیے ہو۔”
کیا ہے مکمل پس منظر؟
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے حماس کو اتوار کی شام تک کی مہلت دی تھی کہ وہ امن منصوبے پر رضا مند ہو، ورنہ غزہ میں شدید حملے شروع کیے جائیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حماس نے ڈیڈ لائن سے قبل ہی معاہدے پر آمادگی ظاہر کر دی، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری روک دی۔
ٹرمپ کا امن منصوبہ — اہم نکات
- حماس کو 72 گھنٹوں میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا۔اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔جنگ بندی کے نفاذ پر اسرائیلی افواج غزہ سے واپس جائیں گی۔غزہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے بند کیے جائیں گے۔غزہ میں ایک بین الاقوامی امن فورس تعینات کی جائے گی، جس میں امریکہ، عرب ممالک اور نیٹو شامل ہوں گے۔حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو عالمی نگرانی میں غیر مسلح کیا جائے گا۔ہتھیار ڈالنے والے حماس ارکان کو معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں، انہیں محفوظ راستہ دیا جائے گا۔
بھارت-امریکہ تعلقات کا امن پر عکس
اگرچہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن عالمی امن کے معاملے میں دونوں رہنما ایک دوسرے کے اقدامات کو سراہنے سے گریز نہیں کرتے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


