سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ مکیش سہنی سیٹوں کے بٹوارے سے ناخوش ہیں اور اسی ناراضی کے اظہار کے طور پر انہوں نے خود کو سیاسی سرگرمیوں سے وقتی طور پر الگ کر لیا ہے۔ ان کی گمشدگی سے عظیم اتحاد میں مزید اختلافات کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔
نائب وزیز اعلیٰ کے عہدہ کا مطالبہ
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ مکیش سہنی نے عظیم اتحاد کے دیگر لیڈران سے رابطہ منقطع کر لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں انہوں نے 60 سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ خود کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار کے طور پر اعلان کروانا چاہتے تھے، جس پر کانگریس نے ویٹو کر دیا تھا۔مکیش سہنی کی ناراضگی کے حوالے سے بہار کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بہار انتخابات سے متعلق ایک بڑی خبر یہ ہے کہ مہاگٹھ بندھن میں سیٹوں کی تقسیم پر جاری تنازع کے سبب وکاس شیل انسان پارٹی (VIP) کے سربراہ مکیش سہنی ناراض ہو کر اچانک غائب ہو گئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کا فون بند آ رہا ہے اور وہ کسی بھی سیاسی لیڈر سے رابطے میں نہیں ہیں۔ سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ مکیش سہنی عظیم اتحاد سے ناراض ہیں اور یہ بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر این ڈی اے میں واپسی کر سکتے ہیں۔
این ڈی اے ہو یا عظیم اتحاد — دونوں کی پسند مکیش سہنی؟
اس وقت مکیش سہنی بہار کی سیاست کے مرکز میں آ چکے ہیں، جبکہ انتخابات میں محض ایک ماہ باقی ہے۔ اگرچہ ان کی پارٹی چھوٹی ہے، مگر ملاحوں اور نشاد برادری پر ان کی مضبوط پکڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے این ڈی اے ہو یا عظیم اتحاد — دونوں اتحاد انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔
عظیم اتحاد کے لیے بڑا جھٹکا
اس وقت مکیش سہنی کا موبائل فون بند آ رہا ہے، جس سے ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اگر وہ واقعی عظیم اتحاد کا ساتھ چھوڑ کر دوبارہ این ڈی اےمیں شامل ہوتے ہیں، تو یہ عظیم اتحاد کے لیے ایک بڑا جھٹکاثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ملاح اور نشاد ووٹرز کے محاذ پر۔ ان کی ناراضی نہ صرف سیٹوں کے بٹوارے پر ہے، بلکہ اس بات پر بھی کہ ان کے مطالبات اور سیاسی وزن کو عظیم اتحاد میں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
