انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے 17,000 کروڑ روپے کے بینک قرض فراڈ کیس میں ریلائنس گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین انل امبانی کو سمن جاری کیا ہے۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی نے انہیں 5 اگست کو دہلی میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہونے کو کہا ہے۔
گزشتہ ہفتے ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت دہلی سے لے کر ممبئی تک ریلائنس گروپ سے جُڑے تقریباً 35 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ ان چھاپوں کے دوران متعدد دستاویزات، مالیاتی لین دین، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر شواہد ضبط کیے گئے۔
تحقیقات کرنے والی ایجنسی کا دعویٰ ؟
اس سے قبل، بھارتی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (SEBI) نے مبینہ طور پر 10,000 کروڑ روپے کے فنڈ کے غلط استعمال (فنڈ ڈائیورشن) کے سلسلے میں اپنی تفتیشی رپورٹ ای ڈی اور دو دیگر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو سونپی تھی۔ الزام ہے کہ قرض کی رقم کو مبینہ طور پر دیگر کمپنیوں میں منتقل کیا گیا اور اس کا استعمال متعین مقاصد سے ہٹ کر کیا گیا، جو منی لانڈرنگ کے دائرے میں آتا ہے۔
مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ یس بینک سے ریلائنس گروپ کی کئی کمپنیوں نے بغیر مناسب ضمانت کے بھاری قرض حاصل کیے اور ان رقوم کو شیل کمپنیوں کے ذریعے دیگر مقاصد میں استعمال کیا گیا۔ سی بی آئی کی جانب سے اس معاملے میں پہلے دو ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جس کے بعد ای ڈی نے تفتیش کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی-این سی آر میں مسلسل بارش سے موسم خوشگوار، اگلے 4 دن کے لیے بارش کا الرٹ جاری
ریلائنس پاور کا مؤقف
بینک قرض فراڈ کے الزامات کے بعد ریلائنس پاور اور ریلائنس انفراسٹرکچر نے اپنی صفائی میں کہا کہ ان کا ریلائنس کمیونیکیشنز (RCom) یا آر ایچ ایف ایل کے ساتھ کوئی کاروباری یا مالی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انیل امبانی ان کمپنیوں کے بورڈ کا حصہ نہیں ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) نے انیل امبانی اور آرکام کو فراڈ قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



