این سی پی رہنما بابا صدیق قتل کیس میں مفرور مرکزی ملزم ذیشان اختر کو کینیڈا میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ جانکاری ممبئی کرائم برانچ کے ذرائع نے دی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ سے وابستہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ملزم ذیشان اختر کے حراست ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
ذیشان اختر واقعے کے بعد سے مفرور تھا اور اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ وہ ملک سے باہر کیسے پہنچا۔ ممبئی پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے بیرون ملک جانے کے لیے فرضی پاسپورٹ کا سہارا لیا ہو گا۔
بابا صدیق کو گزشتہ سال اکتوبر میں قتل کر دیا گیا تھا
آپ کو بتا دیں کہ این سی پی لیڈر بابا صدیق کو 12 اکتوبر کو ممبئی کے باندرہ میں ان کے بیٹے کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔گرمیل سنگھ، دھرم راج کشیپ اور شیوکمار گوتم نے بابا صدیق کو گولی مار کر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ لیکن موقع پر موجود لوگوں کی مدد سے گرمیل سنگھ اور دھرم راج کشیپ کو پکڑ لیا گیا، جب کہ شیوکمار گوتم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ بعد میں اسے اتر پردیش کے بہرائچ سے اس وقت گرفتار کیا گیا ،جب وہ نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ملزمان نے گھر اور دفتر کی ریکی کی
ملزمان نے دو ماہ قبل تک بابا صدیق کے گھر اور دفتر کی ریکی کی تھی۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزمان کے پاس پستول اور گولیاں تھیں اور وہ ہمیشہ قتل کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ 12 اکتوبر کی رات انہوں نے موقع پا کر فائرنگ کر دی۔
لارنس گینگ نے بابا صدیق کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی
لارنس بشنوئی گینگ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ گینگ کا کہنا ہے کہ بابا صدیق کو اداکار سلمان خان سے قریبی تعلقات کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ بابا صدیق قتل کیس میں گرفتار تمام ملزمان کے خلاف مکوکا کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس سال ممبئی کرائم برانچ نے بابا صدیقی قتل کیس میں 4,590 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق 12 اکتوبر 2024 کی رات گرمیل سنگھ، دھرم راج کشیپ اور شیوکمار گوتم نے بابا صدیقی پر گولی چلائی اور جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ ملزم نے اس سے قبل بابا صدیقی کے گھر اور دفتر کی بھی ریکی کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



