نئی دہلی :تمل ناڈو میں نو منتخب وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے اپنی حکومت کا باضابطہ کام کاج شروع کر دیا ہے، لیکن ان کی کابینہ کی ایک خاتون وزیر ایس کیرتھنا غیر متوقع وجہ سے خبروں میں آ گئی ہیں۔ کیرتھنا نے اتوار کو بطور وزیر حلف تو لے لیا، مگر پیر کے روز وہ اسمبلی میں رکنِ اسمبلی کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھا سکیں۔ اس کی وجہ ایک لازمی دستاویز یعنی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ کا موجود نہ ہونا بتایا جا رہا ہے۔اسمبلی کارروائی کے براہِ راست نشریات کے دوران یہ منظر دیکھنے کو ملا۔ جب اسمبلی کے پرنسپل سیکریٹری کےسرینواسن نے مائیک پر ایس کیرتھنا کا نام پکارا تو وہ وزیر اعلیٰ کی نشست کے سامنے قائم اسٹیج کی جانب بڑھیں۔ اسمبلی کی روایت کے مطابق حلف لینے والا رکن عبوری اسپیکر یعنی پروٹیم اسپیکر کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جیسے ہی کیرتھنا اسٹیج کے قریب پہنچیں، پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے ان سے ہاتھ کے اشارے سے لازمی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ طلب کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خاتون وزیر یہ دستاویز پیش نہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔اسمبلی میں موجود ایک افسر کے مطابق ایس کیرتھنا کے پاس اس وقت انتخابی کامیابی کا سرکاری سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اسی لیے انہیں رکن اسمبلی کے طور پر حلف لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خاتون وزیر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جلد ہی سرٹیفکیٹ پیش کرکے حلف مکمل کریں گی۔افسر نے مزید بتایا کہ تمام منتخب اراکین کو پہلے ہی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے انتخابی سرٹیفکیٹ لازمی ساتھ لائیں۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے باضابطہ پریس نوٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سی۔ جوزف وجے سمیت دیگر تمام اراکین نے حلف سے قبل اپنے سرٹیفکیٹ عبوری اسپیکر کے سامنے پیش کیے تھے۔
واضح رہے کہ ایس۔ کیرتھنا شیوکاشی اسمبلی حلقے سے منتخب ہوئی ہیں اور انہیں کابینہ میں نویں وزیر کے طور پر شامل کیا گیا۔ انہوں نے کانگریس امیدوار اشوکن جی کو 11 ہزار 670 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی، جبکہ سابق وزیر اور اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر کے ٹی راجندر بالاجی تیسرے نمبر پر رہے تھے۔ادھر اسمبلی میں ایک اور دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ ویلاچیری حلقے سے تملگا ویتری کڑگم (ٹی وی کے) کے رکن اسمبلی آر۔ کمار جب حلف لینے کے لیے آگے بڑھے تو پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے انہیں بھی روک دیا۔ سرینواسن نے نشاندہی کی کہ آر۔ کمار کی جانب سے جمع کرایا گیا انتخابی سرٹیفکیٹ کسی دوسرے شخص کے نام پر ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غلطی سے اپنے ساتھی رکن اسمبلی کا سرٹیفکیٹ لے آئے تھے، جسے انہوں نے فوراً درست کر لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


