Bharat Express DD Free Dish

Joseph Vijay Chandrasekhar

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو سماجی بہبود محکمہ، اسکولی تعلیم محکمہ، مقامی اداروں اور اسکول انتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔حکومت کا مقصد اسکیم کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا اور زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ تک اس کا فائدہ پہنچانا ہے۔

وزیر اعلیٰ وجے نے مزید کہا کہ پولیس کو اقتدار کا مرکز نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے عوام کی حفاظت کرنی چاہیے۔گزشتہ 3 ماہ کے دوران سامنے آنے والے جرائم کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ ان کے پیچھے پرانی دشمنی اور انتقام کا جذبہ بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’پولیس کو اقتدار کا مرکز نہیں بننا چاہیے،

تمل ناڈو حکومت نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور غیر ملکی عطیات کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی مخالف نہیں ہے۔ راج موہن نے کہا کہ ریاستی حکومت قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کی تشویش یہ ہے کہ مجوزہ ترامیم کا جائز تعلیمی، طبی، فلاحی اور سماجی اداروں پر غیر ضروری منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے 300 نئی ڈیزل اور سی این جی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ افتتاح کے بعد وہ خود بھی ایک نئی بس میں سوار ہوئے اور سفر کا تجربہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈرائیوروں سے ملاقات کی، انہیں مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ بس کی اگلی نشست پر بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

اس کے بعد تصویر کو مختلف اے آئی ڈٹیکشن ٹولز کے ذریعے چیک کیا گیا۔ ‘سائٹ انجن’ نامی ٹول نے تقریباً 65 فیصد امکان ظاہر کیا کہ تصویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ‘انڈیٹیکٹیبل’ ٹول نے بھی تصویر کو مشکوک قرار دیا۔ بعد میں ‘ہائیو موڈریشن’ کی رپورٹ میں 92.9 فیصد امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی ہے۔

ریاست کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں، چاہے وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں شراب بندی یا شراب کی دکانوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تھلاپتی وجے کے اس فیصلے کو عوامی مطالبات کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔

تریشا کرشنن چنئی کے جواہر لعل نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں نیلی ساڑھی پہن کر شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران جب ایک میڈیا اہلکار نے ان سے کہا کہ ’’یہ تمل ناڈو کے لیے ایک بڑا دن ہے‘‘ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’جی ہاں،

جیسے ہی کیرتھنا اسٹیج کے قریب پہنچیں، پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے ان سے ہاتھ کے اشارے سے لازمی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ طلب کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  خاتون وزیر یہ دستاویز پیش نہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی،

وجے کا وزیر اعلیٰ بننا تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے ریاست میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان اقتدار کی جو روایت چلی آ رہی تھی، اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے پہلی ہی بار شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں کی حمایت کے بعد وجے کو 121 ارکان کی تائید حاصل ہوئی،