نئی دہلی :تمل ناڈو کی دو اسمبلی سیٹوں مدورانتکم اور دھاراپورم پر ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ وجے کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق، دونوں سیٹوں پر وزیر اعلیٰ وجے کی پارٹی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔مدورانتکم اور دھاراپورم کی سیٹیں آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے سابق ارکان اسمبلی کے مرگتھم کمارویل اور پی ستیابھاما کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ بعد میں دونوں سابق ارکان اسمبلی ٹی وی کے میں شامل ہو گئے۔ پارٹی نے ضمنی انتخابات میں دونوں کو اپنا امیدوار بنایا اور ابتدائی رجحانات میں دونوں ہی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ان دونوں سیٹوں پر دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) اور اے آئی اے ڈی ایم کے بھی انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اے آئی اے ڈی ایم کے نے ایس کنیتھا سمپت کو، جبکہ ڈی ایم کے نے آئی پرنتھامن کو میدان میں اتارا ہے۔وجے کی قیادت والی ٹی وی کے کے لیے یہ انتخاب اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ مئی میں حکومت بنانے کے بعد پارٹی پہلی بار انتخابی میدان میں اتری ہے۔
کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے؟
دھاراپورم اسمبلی حلقے میں دستیاب ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، ستیابھاما کو 54 ووٹ ملے ہیں، جبکہ ڈی ایم کے کی امیدوار سکنیہ کو 48 اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی امیدوار بانومتی کو 23 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔مدورانتکم اسمبلی حلقے میں بھی مرگتھم کمارویل آگے چل رہی ہیں۔ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں میں مرگتھم کمارویل کو 55، ڈی ایم کے کو 46 اور اے آئی اے ڈی ایم کے کو 22 ووٹ ملے ہیں۔واضح رہے کہ دونوں اسمبلی سیٹیں درج فہرست ذاتوں کے امیدواروں کے لیے محفوظ ہیں۔ یہ اعداد و شمار ابتدائی رجحانات سے متعلق ہیں، حتمی نتائج نہیں۔
انتخابی مہم میں بڑے رہنماؤں نے لگائی پوری طاقت
دونوں اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی مہم چلائی۔ وزیر اعلیٰ وجے نے روڈ شو کیے، جبکہ ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے سربراہ ایڈاپڈی کے پلانی سوامی نے بھی اپنے امیدواروں کے حق میں مہم چلائی۔دونوں اپوزیشن جماعتوں کے سامنے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کا چیلنج ہے۔ انتخابی نتائج سے یہ بھی واضح ہوگا کہ دونوں حلقوں میں ٹی وی کے کے بعد دوسرے مقام پر کون سی پارٹی رہتی ہے۔
خواتین کے خلاف تبصروں کو وجے نے بنایا انتخابی مسئلہ
انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ وجے نے خواتین کے خلاف کیے جانے والے متنازع تبصروں کو اہم مسئلہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو بیان دینا ہے تو وہ ان کے خلاف بیان دے، لیکن خواتین کے بارے میں نامناسب تبصرے نہ کرے۔وجے نے انتخابی مہم کے دوران حکومت بننے کے بعد کیے گئے اہم فیصلوں کا بھی ذکر کیا۔ اب ابتدائی رجحانات میں دونوں سیٹوں پر ٹی وی کے کی برتری نے پارٹی کی امیدیں بڑھا دی ہیں، تاہم انتخابی مقابلے کی حتمی تصویر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

