Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill Voting 2026: کل شام 4 بجے  ہوگااصل فیصلہ، کیا خواتین کو ملے گا ریزرویشن؟ لوک سبھا میں اکثریت کے ہندسوں کا کھیل

حکومت نے ان بلوں پر بحث کے لیے 12 گھنٹے مقرر کیے ہیں، جسے ضرورت پڑنے پر 18 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج دوپہر 3 بجے نریندر  مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے بل کی اہمیت اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

نئی دہلی :ہندو ستانی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ کی بڑی تبدیلیوں میں سے ایک اب فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ جمعرات 16 اپریل کو خصوصی پارلیمانی اجلاس کا آغاز ہنگامہ خیز رہا، جس کے بعد اوم برلا نے واضح کیا کہ خواتین ریزرویشن بل سمیت تین اہم بلوں پر جمعہ 17 اپریل 2026 کو شام 4 بجے ووٹنگ ہوگی۔ کل شام تک یہ طے ہو جائے گا کہ ملک کی آدھی آبادی کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ان کا حق ملے گا یا 30 سال پرانا انتظار مزید طویل ہوگا۔

اکثریت کا حساب: این ڈی اے کے لیے راستہ آسان نہیں

خصوصی اجلاس کے پہلے دن جب ان بلوں کو بحث کے لیے منظور کرنے پر ووٹنگ ہوئی تو حکمراں اتحاد کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

حمایت میں ووٹ: 251 (این ڈی اے کے پاس کل 293 ارکان ہیں)

مخالفت میں ووٹ: 185

غیر حاضر ارکان: این ڈی اے کے 42 ارکان ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے

واضح رہے کہ آئینی 131ویں ترمیمی بل کو منظور کرانے کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق حکمراں اتحاد کے پاس فی الحال مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔ اپوزیشن کی صف بندی اور این ڈی اے کے کچھ ارکان کی غیر حاضری نے کل کی ووٹنگ کو حکومت کے لیے سخت امتحان بنا دیا ہے۔

12 سے 18 گھنٹے کی طویل بحث، اس کے بعد وزیراعظم مودی کا خطاب

حکومت نے ان بلوں پر بحث کے لیے 12 گھنٹے مقرر کیے ہیں، جسے ضرورت پڑنے پر 18 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج دوپہر 3 بجے نریندر  مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے بل کی اہمیت اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

حکومت کا مقصد خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینا ہی نہیں بلکہ لوک سبھا کی موجودہ نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنا بھی ہے۔ اس کے لیے حلقہ بندی کمیشن کے قیام اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق قانون میں ترمیم بھی شامل ہے۔

کل شام 4 بجے: ملک کی نظریں پارلیمنٹ پر

جمعہ کا دن اس لیے اہم ہے کیونکہ کل حلقہ بندی بل اور یو ٹی سی بل کے ساتھ خواتین ریزرویشن پر حتمی مہر لگنی ہے۔ اپوزیشن نے ان بلوں کے وقت اور حلقہ بندی کی شرائط پر سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔اگر کل ووٹنگ کے دوران حکومت اپوزیشن کو ساتھ لانے یا این ڈی اے کے غیر حاضر ارکان کو واپس لانے میں ناکام رہی تو یہ تاریخی قدم ایک بار پھر التوا کا شکار ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read