نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اسی دوران بھارت سمیت روس سے تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے چار سینئر سینیٹرز نے روس سے توانائی خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت پابندیوں پر مبنی نیا قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایسے ممالک پر 500 فیصد تک امریکی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت روس سے خام تیل، قدرتی گیس، یورینیم اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے والے ممالک کی امریکہ کو برآمد کی جانے والی اشیا اور خدمات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ بل 2025 کے “سینکشننگ رشیا ایکٹ” کو مزید سخت بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل اس مجوزہ اقدام کو پہلے ہی “ہڈیاں توڑ دینے والا اقتصادی وار” قرار دے چکے ہیں۔
اس قانون میں امریکی صدر کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے ہیں، جن کے تحت اگر کسی ملک کو رعایت دینا امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہو تو اسے 180 دن تک پابندیوں سے استثنا دیا جا سکتا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بل کے تازہ مسودے میں ٹیرف سے متعلق بعض شقوں کو پہلے کے مقابلے میں نرم کیا گیا ہے، تاہم حتمی متن ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔اس پورے معاملے میں بھارت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ روسی تیل کی خریداری کے حوالے سے کئی امریکی رہنما پہلے بھی نئی دہلی کا نام لے چکے ہیں۔ جون 2025 میں سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کہا تھا کہ اگر بھارت اور چین روس کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ادھر امریکی سینیٹ میں اس مجوزہ قانون کو نمایاں حمایت حاصل ہو چکی ہے اور 84 سینیٹرز اس بل کے شریک سرپرست بن چکے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی اس تجویز کو روس پر دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دے چکے ہیں تاکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اگرچہ اس بل کو پہلی بار پیش کیے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اب بھی یہ قانون سازی کے مرحلے میں ہے اور اس پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

