نئی دہلی : اپوزیشن کے انڈیا الائنس کی میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ انتخابی کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر سے متعلق تنازع کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی یہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ میٹنگ کے ایجنڈے میں الیکشن کمیشن اور اس سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرکے بتایا کہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں کون کون سی جماعتیں شامل ہوئی ہیں۔
ان جماعتوں نے میٹنگ میں کی شرکت
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر مکمل فہرست شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق میٹنگ میں شامل جماعتوں میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، این سی پی (شرد پوار)، شیو سینا (یو بی ٹی)، راشٹریہ جنتا دل، سی پی ایم، سی پی آئی، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، سی پی آئی (ایم ایل)، انڈین یونین مسلم لیگ، کیرالہ کانگریس (ایم)، ایم ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کیرالہ کانگریس (جے)، اور اے آئی ایف بی شامل ہیں۔جے رام رمیش نے کہا کہ یہ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کی جانب سے آئین پر کیے جانے والے مبینہ حملوں کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے انتخابی کمیشن کے ذریعے ووٹوں کی چوری کی مبینہ سازش کو بھی اس سلسلے کی تازہ مثال قرار دیا۔
انڈیا الائنس سے دو جماعتوں نے بنائی دوری
رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد میں 23 جماعتیں شامل تھیں، اب دو جماعتوں کے الگ ہونے کے بعد یہ تعداد 21 رہ گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے اتحاد سے دوری اختیار کی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب ان کا انڈیا بلاک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی اس میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کی جگہ پارٹی کے دو ارکان پارلیمنٹ ہریندر ملک اور محیب اللہ ندوی میٹنگ میں پہنچے ہیں۔
اپوزیشن کے خلاف لگائے گئے پوسٹر
انڈیا الائنس کی میٹنگ سے قبل کانسٹی ٹیوشن کلب کے آس پاس بھی ایسے پوسٹر سامنے آئے ہیں، جن میں اپوزیشن لیڈروں پر الیکشن کمیشن کے معاملے میں ’دوہرے معیار‘ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ان پوسٹرز میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال، ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن، کانگریس کی سوشل میڈیا چیئرپرسن سپریا شرینیت، ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی اور کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔ان پوسٹرز میں اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کمیشن سے متعلق موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر ’دوہرا معیار‘ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

