جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفیٰ کے بعد، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ (31 جنوری) کو دیر گئے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد ہیمنت سورین کو ای ڈی کے دفتر لے جایا گیا۔ اپنے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ جو بھی مودی جی کے ساتھ نہیں جائے گا وہ جیل جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین پر ای ڈی کا مسلط کرنا اور انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا جمہوریت کے لیے ایک دھچکا ہے۔ پی ایم ایل اے کی دفعات کو سخت بنا کر اپوزیشن لیڈروں کو ڈرانا بی جے پی کے ٹول کٹ کا حصہ ہے۔
जो मोदी जी के साथ नहीं गया, वो जेल जाएगा।
झारखंड के मुख्यमंत्री, श्री हेमंत सोरेन पर ED लगाकर उनका त्यागपत्र देने को मजबूर करना Federalism की धज्जियाँ उड़ाना है।
PMLA के प्रावधानों को draconian बनाकर विपक्ष के नेताओं को डराना-धमकाना, भाजपा की Tool Kit का हिस्सा है।
षड्यंत्र…
— Mallikarjun Kharge (@kharge) January 31, 2024
انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت اپوزیشن کی حکومتوں کو ایک ایک کرکے غیر مستحکم کرنے کا بی جے پی کا کام جاری ہے۔ بی جے پی کی واشنگ مشین میں جو گیا وہ سفید جیسا صاف ہے، جو نہیں گیا وہ داغدار ہے۔ کھڑ گے نے مزید کہا کہ اگر جمہوریت کو آمریت سے بچانا ہے تو بی جے پی کو ہرانا ہوگا۔
کانگریس صدر نے پوسٹ میں کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ہم پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک لڑتے رہیں گے۔
ED, CBI, IT आदि अब सरकारी एजेंसियां नहीं रहीं, अब यह भाजपा की ‘विपक्ष मिटाओ सेल’ बन चुकी हैं।
खुद भ्रष्टाचार में डूबी भाजपा सत्ता की सनक में लोकतंत्र को तबाह करने का अभियान चला रही है।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) January 31, 2024
وہیں اس معامہ پر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ ای ڈی ، سی بی آئی، آئی ٹی وغیرہ اب سرکاری ایجنسی نہیں رہی ،اب یہ ایجنسیاں بی جے پی کی اپوزیشن مٹاؤ سیل بن چکی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود بدعنوانی میں لوث بی جے پی کی حکومت جمہوریت کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


