سپریم کورٹ نے پیر کو تشدد زدہ مغربی بنگال میں صدر راج نافذ کرنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے بی جے پی لیڈروں کی طرف سے سپریم کورٹ پر لگائے گئے الزامات پر تبصرہ کیا۔ عدالت عظمیٰ کو دو اہم فیصلوں کے پس منظر میں بی جے پی قائدین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان میں سے ایک گورنروں کے ذریعہ بھیجے گئے بلوں پر فیصلہ لینے کے لئے صدر کے لئے ایک آخری تاریخ مقرر کرنا اوردوسرا ترمیم شدہ وقف ایکٹ کی بعض دفعات پر روک لگاناشامل ہے۔
بنگال میں صدر راج نافذ کرنے اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس بی آر گاوائی اور آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پر عمل درآمد کے لیے صدر جمہوریہ کو رٹ جاری کریں؟ ویسے بھی، ہم پر ایگزیکٹو (علاقہ) میں مداخلت کے الزامات لگ رہے ہیں۔
جسٹس گوائی نے کہا کہ “آپ چاہتے ہیں کہ ہم صدرجمہوریہ کو ہدایت دینے کے احکامات جاری کریں..؟ ویسے بھی، ہم پر پارلیمانی اور ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کا الزام ہے۔جسٹس گوائی اس تنازعہ کا حوالہ دے رہے تھے جو حال ہی میں سپریم کورٹ کی طرف سے صدر کو بلوں کی بروقت منظوری دینے کی ہدایت پر ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے سپریم کورٹ کی صدر کو دی گئی ہدایت پر سخت تنقید کی تھی۔اس کے علاوہ نشی کانت دوبے اور دنیش شرما کی طرف سے سپریم کورٹ پر متنازعہ تبصرہ کیا تھا جس پر پارٹی نے ان کی سخت سرزنش کی تھی۔ویسے یہ تبصرہ اس لیے اہم ہے کہ جسٹس بی آر گوائی، جو اگلے ماہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے، وقف ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کریں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



