Bharat Express DD Free Dish

Justice BR Gavai

’آئیڈیاز فار انڈیا سمٹ 2025‘ میں ہندوستان کے سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ہندوستان اگر 2047 میں دنیا کی صفِ اوّل کی جمہوریتوں میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنے نظامِ انصاف میں گہرے، بنیادی اور ہمہ گیر اصلاحات کرنے ہوں گی۔ تقریب کا انعقاد نئی دہلی کے تاج پیلس میں ہوا، جس میں ملک کے متعدد سرکردہ ماہرین، پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

جسٹس کے ٹی ديسائی میموریل لیکچر کے دوران جسٹس بی آر گوائی نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آئین نے اسے مضبوط تحفظ دیا ہے، لیکن عوامی نظم و نسق کے لیے اس کی حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اراولی میں نئی کان کنی لیز کو لے کر ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ نئی کان کنی لیز پر روک لگاتے ہوئے، عدالت نے مرکزی حکومت کو ”پائیدار کان کنی پلان” بنانے کی ہدایت دی ہے۔

چیف جسٹس بی آرگوئی نے ماریشس ‘Rule of Law’ میں پرخطاب کیا۔ انہوں نے سرماریس رالٹ کی وراثت اوربھارت-ماریشس کے تعلقات پرروشنی ڈالی۔ تین طلاق، بلڈوزرفیصلے کی بھی یاد دلائی۔

سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی 24 نومبر 1960 کو امراوتی، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ وہ 16 مارچ 1985 کو قانونی پیشے میں داخل ہوئے اور ابتدائی طور پر آنجہانی راجہ ایس بھوسلے کے ساتھ کام کیا، جو سابق ایڈوکیٹ جنرل اور ہائی کورٹ کے جج تھے۔

جسٹس گوائی ملک کے دوسرے دلت چیف جسٹس بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے جسٹس کے جی بالاکرشنن چیف جسٹس آف انڈیا بنے۔ جسٹس بالاکرشنن سال 2007 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔

اپنے چھ سال کے دور میں جسٹس گوئی تقریباً 700 بنچوں کا حصہ رہے ہیں جس میں انہوں نے آئینی، انتظامی، سول، فوجداری، تجارتی، ماحولیاتی اور تعلیمی معاملات پر کام کیا۔ انہوں نے کئی اہم فیصلے دیے ہیں جن میں آئینی بنچ کے کئی تاریخی فیصلے بھی شامل ہیں جن کا تعلق شہریوں کے بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کے تحفظ سے ہے۔

بنگال میں صدر راج نافذ کرنے اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس بی آر گاوائی اور آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پر عمل درآمد کے لیے صدر جمہوریہ کو رٹ جاری کریں؟

جسٹس بی آرگوئی عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ بعد تک چیف جسٹس رہیں گے اور نومبر 2025 میں ریٹائرہوں گے۔ وہ شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے دوسرے چیف جسٹس ہوں گے۔

افتتاحی تقریب کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے وائنڈ لینڈ سلائیڈنگ کے متاثرین کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ متاثرین کی امداد چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں کی جائے گی۔